تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 207 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 207

تاریخ احمدیت۔جلد 23 207 سال 1965ء مسلمانوں کو دین حقہ سے منحرف کرنے کی ہمہ گیر مہم شروع کر دی ہے۔اس نے دشمنانِ اسلام کو للکارا اور اس للکار کے ساتھ ہی ان مادہ پرستوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے اپنے سینکڑوں شیر میدان میں اتار دیئے جو اس وقت تک دشمن سے جنگ آزما ر ہے جب تک آریہ مت کا قافیہ پوری طرح تنگ نہ ہو گیا۔اور اسلام اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ قلوب واذہان پر پھر مستولی نہیں ہو گیا۔وہ عاشق کلام پاک جس نے اللہ تعالیٰ کے حمید و مجید کلام ( قرآن ) کے انوار کو اقصائے عالم میں پھیلانے کے لئے اس کا ایک درجن سے زائد زبانوں میں ترجمہ کرا کے اسلام کی اساسی تعلیم کو تثلیث و دہریت کے نرغہ میں آئی ہوئی انسانیت کے قلوب میں جاگزیں کیا۔وہ دردمند انسانیت جس کی نگاہ نکتہ شناس نے ۳۱ء میں سب سے پہلے خطہ جنت نظیر کشمیر کے باسیوں کے ہاتھوں سے جبر و تشدد اور اُس محکومی و مجبوری کو پڑھا جو صدیوں سے ان کے ضمیروں، روحوں اور دلوں کو اپنی گرفت میں لئے ہوئے تھی اور جس نے اس در دو کرب کو پڑھتے ہی ان اسیروں کی رستگاری و رہائی کے لئے ایک ایسی ملک گیر سیاسی و اخلاقی مہم شروع کی کہ اس کی قائم کردہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے چند ہی مہینوں میں کشمیر کے کونے کونے میں جذب حریت کی چنگاریاں سُلگا دیں۔جن کے شعلے آج ایسے خطرناک الاؤ کی صورت اختیار کئے ہوئے ہیں کہ بھارت کی جابر اور وسیع ذرائع والی حکومت بھی اس میں جل کر بھسم ہوا چاہتی ہے۔وہ جیدا اور باعمل جلیل القدر فرزند اسلام جو گفتار نہیں کردار کا غازی تھا اور جس نے جنگ کشمیر شروع ہونے پر صرف جہاد کے کاغذی فتوؤں اور تائیدی بیانوں ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ اپنے خرچ پر فوراً اس مہم کو سر کرنے کے لئے باقاعدہ ایک فورس قائم کر کے اسے سر براہانِ وقت کے حوالے کر دیا اور پھر اس عاشق قرآن کی قائم کردہ فرقان فورس نے میدانِ جنگ میں ایسے کا رہائے نمایاں انجام دیئے کہ تاریخ استحکام پاکستان اور تاریخ جنگ آزادی کشمیر انہیں ہمیشہ اپنے سینے کے ساتھ لگا کر رکھے گی۔وہ نکتہ رس اور نکتہ پرور مذہبی رہنما جس کی قیادت کی انگلیاں ہمیشہ قلوب و ضمائر کی نبض پر رہتی تھیں اور جس کی ایک آواز پر اور جس کی انگلی کے ایک اشارے پر بڑے بڑے سکالر، سائنسدان، پروفیسر، قانون دان یہاں تک کہ دنیوی زندگی سے وابستہ اس کا ہر ارادت مند ہر وقت اپنے سارے دنیوی تانے بانے سے منہ موڑ کر خدمتِ اسلام کے لئے نکل پڑنے کو تیار رہتا تھا۔امریکہ و یورپ کی عیسائی حکومتوں ہی کو اس بات کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ جب وہ کسی ملک کو اپنے حکومتی مذہب کی تبلیغ کے