تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 203 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 203

تاریخ احمدیت۔جلد 23 203 ظفر اللہ ہے قادیانی جنم کا کرم چند لالہ کرم چند نے سن کر کہا:۔چند دو دو روز کا قادیانی شنیدہ کے بود مانند دیدہ سال 1965ء تقسیم ملک کے بعد مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے لاء کالج لاہور کے مینارڈ ہال میں ملکی ترقی کے امکانات پر چند تقریریں کی تھیں۔ان تقریروں میں انہوں نے ایک فاضل یو نیورسٹی لیکچرار کی طرح نقشہ جات ، بلیک بورڈ اور گراف کی امداد سے بعض نکات کی وضاحت کی تھی۔مجھے ایک نکتہ یاد ہے اور وہ یہ کہ افسوس ہے کہ تقسیم ملک سے پہلے ان جزائر کی طرف توجہ نہ دی گئی جو ساحل ہند کے ساتھ ساتھ واقع ہیں۔کاریپ اور سرندیپ بالا دیپ وغیرہ ان ساحلی جزیروں کی آبادی اکثر و بیشتر مسلمانوں پر منحصر ہے اور ان کی اہمیت دفاعی نقطہ نگاہ سے بہت زیادہ ہے۔ارشادات سن کر سامعین میں عام تاثریہ پایا جاتا تھا کہ کاش تقسیم کی کارروائی کے وقت خلیفہ صاحب کا اشتراک عمل حاصل کر لیا جاتا۔بے جا تعصب اور خود فریبی نے قومی سطح پر مرزا بشیر الدین محمود احمد کی خداداد صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع ہاتھ سے کھو دیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ حقیقت مجھ پر طالبعلمی کے زمانہ میں ہی منکشف ہو گئی تھی کہ آدمی کو دشمنوں کے پروپیگنڈے سے اندھا دھند متاثر نہیں ہونا چاہیے۔میں مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سے متعلق جن باتوں کو ان کے کارنامے سمجھنے پر علی وجہ البصیرت مجبور ہوں وہ مختصراً یہ ہیں۔اول ہائی کورٹ میں مخالف احمدیت کے تحقیقات کے سلسلے میں ان کا کردار اور فاضل حج کے سوالات کے جواب میں ان کی توضیحات ، لوگ حیران تھے کہ وہ ایسے ماحول کی مشکلات سے کیسے عہدہ بر آہوں گے مگر انہوں نے دیگر مسائل کے علاوہ وحی کی حقیقت جیسے مافوق الفطرت مسائل پر ایسی توضیحات پیش کیں کہ سننے والے انگشت بدنداں رہ گئے۔ایک جج نے نجی صحبت میں اعتراف کیا کہ انہیں اپنی ساری فضیلت کے باوجود ان مافوق الفطرت مسائل کے متعلق رتی بھر واقفیت نہیں تھی۔مرزا محمود احمد کی توضیحات کو سن کر ان کے چودہ طبق روشن ہو گئے اور پہلی بار بعض اسلامی نظریات کا صحیح صحیح علم ہوا۔ان کا دوسرا کارنامہ یہ ہے کہ وہ انگلستان کے سفر پر اپنی بیگمات کو ساتھ لے کر گئے اور جب تعدد ازدواج کے اسلامی نظریہ کے مخالف عیسائیوں نے بیویوں کے ساتھ انصاف کے امکانات کا مسئلہ اٹھایا تو اس شیر نے مردانہ وار جواب دیا کہ اخبار