تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 202 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 202

تاریخ احمدیت۔جلد 23 202 سال 1965ء ربط اور ضبط سے بولتا جیسے کوئی کتاب پڑھ کر سنا رہا ہو۔فقرے مکمل ، دلائل معقول ، احساس ذمہ داری حد کو پہنچا ہوا، تجاویز تعمیری، نکتہ چینی جائز ، ہر تقریر میں ایک پیغام ہوتا اور ہر پیغام پر عمل پیرا ہونے کے لیے واضح ہدایات سن کر مزا ہی آجاتا۔بے اختیار دل میں یہ کیفیت پیدا ہوتی الحمد للہ ایک معقول اور فاضل آدمی کی باتیں سنے کا موقع ملا۔مجھے اس کے مخالف مقررین کی مقررانہ حرکات سکنات کبھی بھی اتنی زیادہ مضحکہ خیز معلوم نہ ہوئیں جتنی کہ اس کی تقریر کو سننے کے فوراًبعد۔ایک دفعہ میں دتی دروازہ کے باہر ایک مسجد میں جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی تقریر سننے گیا۔نماز تو ان کے پیچھے نہ پڑھی کیونکہ سا تھا کہ وہ عامتہ المسلمین کے ساتھ مل کر نماز نہیں پڑھتے۔مگر نماز کے بعد ان کی تقریر نہایت غور سے سنی۔عالمی مسائل سے لے کر ملکی مسائل تک ایسے انداز میں زیر بحث آئے کہ باید شاید۔اصل میں ان کی شخصیت ایسی جاذب تھی کہ آدمی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔میں سمجھتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کے مخصوص حلقہ کے علاوہ بھی ان کی تجاویز عام مسلمانوں کے لیے مفید ہوسکتی تھیں۔اور اگر انکو محض تعصب کی بناء پر قیادت کا وسیع میدان نہیں ملا تو اس سے ملت اسلامیہ اور ملک دونوں کو نقصان ہی ہوا ہے۔اس سلسلہ میں اس امر کا تذکرہ خاص طور پر ایک تلخی اپنے اندر رکھتا ہے کہ کشمیر کمیٹی کی قیادت ان سے چھین لی گئی اس کے بعد مسئلہ کشمیر کا جو حشر ہوا و محتاج بیان نہیں۔اس ضمن میں ایک واقعہ کا ذکر کرنا بھی شاید بے محل نہ ہو گا۔ہفتہ وار پارس“ کے ایڈیٹر لالہ کرم چند ایک دفعہ اخبار نویسوں کے وفد کے ساتھ قادیان کے سالانہ اجلاس میں شامل ہوئے وہاں سے واپس آئے تو یکے بعد دیگرے کئی مضامین مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی قیادت، فراست اور شخصیت کا ذکر ایسے پیرائے میں کیا کہ مخالفوں میں کھلبلی مچ گئی۔مجھے خود کہنے لگے ہم تو ظفر اللہ کو بڑا آدمی سمجھتے تھے۔( سر ظفر اللہ ان دنوں وائسرائے کے ایگزیکٹو کونسل کے ممبر تھے ) مگر مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے سامنے اس کی حیثیت طفل مکتب کی ہے۔وہ ہر معاملے میں ان سے بہتر رائے رکھتا ہے اور بہترین دلائل پیش کرتا ہے اس میں بے پناہ تنظیمی قابلیت ہے۔ایسا آدمی بآسانی کسی ریاست کو بام عروج تک لے جاسکتا ہے۔لالہ کرم چند پارس کے یہ مضامین پارس میں شائع ہوئے تو ایک آریہ سماجی شاعر نے جل کر اپنے اخبار میں لکھا:۔تیرے گیت گائے ہوئے آ رہے ہیں عجیب شے ہے مرزا تیری مہمانی