تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 201 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 201

تاریخ احمدیت۔جلد 23 201 سال 1965ء مشورہ، واضح تجویز اور پھر صحیح خطوط پر لائحہ عمل۔یہ انکی خصوصیت تھی۔مجھے ان کی وفات پر بڑا صدمہ ہوا۔کہنے لگے۔میں نے محترم محمد اسماعیل صاحب پانی پتی کو تعزیت کا خط لکھا ہے۔اور اس خط میں یہ بھی لکھ دیا ہے کہ وہ حضرت صاحب سے متعلقہ تعزیتی فقرات کو شائع بھی کرا سکتے ہیں۔افسوس ! مسلمانوں نے مرزا صاحب کی قدر نہیں کی سخت مخالفت کی آندھیوں کے باوجود میں نے مرزا صاحب کو کبھی افسردہ اور سرد مہر نہیں دیکھا۔مرزا صاحب کے دل کی شمع ہمیشہ روشن رہی۔ہم یاس و افسردگی کی تصویر بنے ان سے ملاقات کے لیے جاتے اور جب باہر آتے تو معلوم ہوتا کہ نا امیدی کے بادل چھٹ گئے ہیں۔اور مقصد میں کامیابی سامنے نظر آ رہی ہے۔وزنی دلیل دیتے اور قابل عمل بات کرتے اور پھر اس پر بس نہیں ہر نوع کی قربانی اور تعاون کی پیشکش بھی ساتھ ہوتی۔جس سے ہم میں جرات اور حوصلہ کے جذبات پیدا ہوتے۔129 چوہدری محمد اکبر خان بھٹی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کا خراج تحسین ایک اور غیر احمدی دوست چوہدری محمد اکبر خان بھٹی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ لاہور تحریر کرتے ہیں: ’” جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی ذات مرجع خلائق تھی۔وہ جب بھی لاہور آتے ان کی تقریر سننے والوں میں غیر احمدی، ہندو مسلم سامعین کی تعدا د احمدی حضرات کے مقابلہ میں کم نہ ہوتی تھی۔خاص طور پر ان کا دلکش انداز تقریر دلوں کو مسخر کئے بغیر نہ رہتا تھا۔مجھے بالخصوص ان کی ایسی تقریروں کا سماں یاد ہے جو احمد یہ ہوٹل ڈیوس روڈ کے وسیع صحن میں شامیانے تلے ہوتی تھیں۔وجیہہ مقر رمسلمان شرفاء کے مقبول لباس میں سفید پگڑی ، لمبا کوٹ اور شلوار میں ملبوس جب لب کشائی کرتا تو ایک عجیب شان بے نیازی سے کھڑا ہو جاتا۔بایاں ہاتھ کمر کے پیچھے رکھ لیتا اور سوائے کبھی کبھی پگڑی کے شملے کو چھو لینے کے اس سے کوئی ایسی حرکت دیکھنے میں نہ آتی جو عام طور پر بولنے والوں سے اپنی بات پر زور دینے کے سرزد ہوتی رہی۔وہ آواز کے نمایاں اتار چڑھاؤ کے بغیر روانی سے بولتا جاتا۔اہم مسائل پر یوں گفتگو کرتا جیسے وہ انہیں زندگی کے عام مسائل (PROBLEMS) سمجھتا ہو۔ایک مسئلے کو اٹھا کر دوسرے مسئلے میں پیوست نہ کرتا۔بلکہ ایک بات پر سیر حاصل تبصرہ کرنے کے بعد پھر دوسری بات کرتا نہ آنکھیں مٹکا تا، نہ کو ہے ہلاتا، نہ ہاتھ اور بازؤں سے بے پناہ فلک شگاف اشارے کرتا بس یہ کیفیت ہوتی جیسے کوئی اسے پیغام دے رہا ہو، اور وہ یہی پیغام سامعین تک بے کم و کاست پہنچارہا ہو۔وہ مخالفین پر رکیک حملے نہ کرتا ، نہ شعر خوانی کرتا، نہ چھیڑ خانی کرتا، تین تین چار چار گھنٹے اس