تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 200
تاریخ احمدیت۔جلد 23 200 سال 1965ء کے چند خطوط آپ کے پاس محفوظ ہیں جو جماعت کی ملتی سرگرمیوں پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔خطوط کے تذکرہ پر فرمانے لگے مختلف نامور شخصیات کے خطوط میرے پاس محفوظ ہیں جن سے گذشتہ تاریخ کی تصحیح میں مددمل سکتی ہے ان میں حضرت صاحب کے بھی خط ہیں۔میرا ارادہ ہے کہ ان تمام خطوط پر مشتمل مع مناسب حواشی کی ایک کتاب تالیف کروں۔مگر موجودہ کام میں اتنا مصروف ہوں کہ پرانے ذخیرہ کی چھان بین کر کے ”خطوط نکالنا میرے بس کی بات نہیں۔کئی صندوق اور الماریوں میں پرانے مسودات پڑے ہیں معلوم نہیں کس صندوق یا الماری کے کس خانہ میں یہ خطوط مل سکیں گے۔جب کبھی فرصت ہوئی آپ کے حوالہ کر دیے جائیں گے۔فرمانے لگے مولوی محمد اسماعیل صاحب پانی پتی میرے محترم ہیں وہ بھی متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں۔مجھے ندامت محسوس ہوتی ہے کہ یہ مطالبہ اب تک پورا نہیں کر سکا۔لا چار ہوں اتنا وقت نہیں نکال سکتا۔میرے ہاتھ میں تاریخ احمد بیت جلد ششم مؤلفہ مولانا دوست محمد شاہد تھی جس میں مربوط اور مبسوط طور پر آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کا تذکرہ حضرت اقدس مصلح موعود کی زیر ہدایت وکلاء کی قربانیاں۔کشمیر کے لیے عالمی پروپیگنڈا۔احمد یہ فرقان فورس وغیرہ امور کا تذکرہ تقریباً تین صد صفحات پر محیط ہے۔یہ کتاب مولانا کو پیش کی۔خوش ہوئے۔سرسری طور پر کہیں کہیں سے پڑھنے لگے۔کہنے لگے۔آپ لوگوں کی کسی کتاب میں اس عظیم الشان انسان کے عظیم کارناموں کی مکمل عکاسی نہیں ملتی۔ہم نے انہیں قریب سے دیکھا ہے، کئی ملاقاتیں کی ہیں، پرائیویٹ تبادلہ خیالات کیا ہے۔مسلم قوم کے لیے تو ان کا وجو د سرا پا قربانی تھا۔فرمایا۔ایک رات مجھے راتوں رات قادیان جا کر حضرت صاحب سے مشورہ کرنا پڑا۔وہ سفراب بھی آنکھوں کے سامنے ہے۔انسانیت کے لیے اس شخص کے دل میں بڑا درد تھا اور جہاں کہیں مسلم قوم کی بہتری اور بہبودی کا معاملہ در پیش ہوتا آپ کی قابل عمل تجاویز ہمارا حوصلہ بڑھانے کا موجب بنتیں۔ایسے موقع پر آپ کا رواں رواں قومی درد سے تڑپ اٹھتا تھا۔فرقہ بازی کا تعصب میں نے اس وجود میں نام کو نہیں دیکھا۔مرزا صاحب بلا کے ذہین تھے۔سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:۔میں نے پاک و ہند میں سیاسی نہ مذہبی لیڈر ایسا دیکھا ہے جس کا دماغ ( PRACTICAL پریکٹکل پالیٹکس میں ایسا کام کرتا ہو جیسا مرزا صاحب کا کام کرتا تھا۔بےلوث (POLITICS