تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 194
تاریخ احمدیت۔جلد 23 194 سال 1965ء سچ سچ کسی نے زیادہ ٹوہ لگانے کی کوشش نہ کی۔میں پہلے دن ہی مطمئن ہو گیا میرا قیام مہمان خانے میں ہوا۔وہاں مجھے پتہ چلا کہ امام صاحب جماعت احمدیہ کے پرائیویٹ سیکرٹری جناب چوہدری بشیر احمد خان بی۔اے۔ایل ایل۔بی ہیں (جو آجکل لاہور میں اوتھ کمشنر ہیں) وہ نہ صرف میرے شناسا تھے بلکہ میرے استاد بھی رہ چکے تھے۔میں ان سے ملا تو وہ بے حد خوش ہوئے۔میری خواہش پر انہوں نے حضرت صاحب سے میری ملاقات کا فوراً انتظام کر دیا۔ملاقات کا انتظام ہوتے ہی میں دارالخلافت پہنچا اور جب چند سیٹرھیاں طے کر کے اندر پہنچا تو حضرت صاحب گاؤ تکئے سے ٹیک لگائے قالین سے مفروش کمرے میں تشریف فرما تھے۔میں رسم سلام ادا کر کے جب مصافحہ کر چکا تو مختصر سے وقفہ کے بعد آپ نے فرمایا:۔قادیان دارالامان ہے یہاں آپ کو سو فیصد امن اور سکون میسر رہے گا“ حضرت صاحب کے اس فقرے پر مجھے بہت تعجب ہوا۔قادیان کو دارالامان تسلیم کر کے ہی میرے شیعی اور سنی دوستوں نے مجھے وہاں بھیجا تھا مگر حضرت صاحب کا میرے حالات سے قطعاً ناواقف ہوتے ہوئے مجھے خاص طور پر امن کا یقین دلانا بڑی ہی استعجاب انگیز بات تھی۔قادیان کے سالانہ جلسے تک میرا معاملہ سلجھ چکا تھا مگر میں مزید چند روز قادیان میں قیام پذیر رہا۔اس موقع پر میرے چند احمدی دوست بھی قادیان پہنچ گئے تو باقی دنوں کے لئے میری رہائش کا انتظام محترم چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے دولت کدہ پر ہو گیا۔جہاں میں نے خلوص اور عقیدت کا بے نظیر نظارہ دیکھا۔ان دنوں حضرت صاحب بے حد مصروف تھے پھر بھی میری ضروریات کے متعلق آپ دریافت فرماتے رہے۔دوسری مرتبہ ۱۹۴۰ء میں مجھے ایک سیاسی مشن پر قادیان جانا پڑا۔اس زمانے میں ہندوا پی سنگھنی شرارتوں کا ایک خاص منصوبہ بنارہے تھے۔اس موقع پر مرحوم و مغفور امام صاحب جامع مسجد دہلی اور سیدی و مولائی خواجہ حسن نظامی صاحب اعلیٰ اللہ مقامہ اور دیگر چوٹی کے مسلم اکابر نے مجھے نمائندہ بنا کر بھیجا کہ حضرت صاحب سے اس باب میں تفصیلی بات چیت کروں اور اسلام کے خلاف اس فتنے کے تدارک کے لئے ان کی ہدایات حاصل کروں۔یہ مشن بہت خفیہ تھا کیونکہ ہندوستان کے چوٹی کے مسلمان اکابر جہاں یہ سمجھتے تھے کہ ہندوؤں کے اُس ناپاک منصوبے کا موثر جواب مسلمانوں کی طرف