تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 193 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 193

تاریخ احمدیت۔جلد23 193 سال 1965ء حضرت مصلح موعود کی شاندار دینی خدمات پر حسب ذیل مقالہ میں تفصیلی روشنی ڈالی :۔اظہار حقیقت۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی زندگی کا ایک ایک سانس اسلام کی سربلندی کیلئے وقف تھا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ سے میری پہلی ملاقات دسمبر ۱۹۳۹ء کے پہلے ہفتہ میں بمقام قادیان ایک خاص صورتحال کے تحت ہوئی۔اور وہاں میرا قیام دسمبر کے اخیر تک رہا۔اس عرصہ میں مجھے حضرت صاحب سے تین بار شرف ملاقات حاصل ہوا اور ہر بارمیں ان کی مقناطیسی کشش سے نہایت متاثر ہوا۔میں ایک پشتنی پختہ کا ر شیعہ ہوں اس لئے بظاہر میرا قادیان جانا اور پھر مہینہ بھر وہاں قیام کرنا ایک عجیب سی بات تھی مگر حالات کچھ ایسے تھے کہ میرا قادیان جانے کے بغیر چارہ کار نہ تھا۔میں اُس زمانہ میں دہلی میں مستقل طور سے مقیم تھا۔بات یہ ہوئی کہ ان دنوں میری کچھ نظمیں یکے بعد دیگرے اخبارات و رسائل میں شائع ہوئیں جن سے انگریزی حکومت کے خلاف بغاوت کا پہلونکلتا تھا۔اس پر حکومت کی طرف سے میرے خلاف خفیہ تفتیش ہونے لگی اور مقدمات مرتب کئے جانے لگے۔اسی اثناء میں میرا ایک نہایت معزز غیر مسلم دوست اپنے بعض دیگر اسی نوعیت کے افعال پر حکومت کے زیر عتاب تھا۔اُس سلسلہ میں میرا نام بھی خفیہ طور پر شامل تفتیش کر لیا گیا۔چنانچہ میرے اُس غیر مسلم دوست کی گرفتاری عمل میں آئی مگر میری گرفتاری کسی وجہ سے چند گھنٹوں کے لئے ملتوی کر دی گئی۔اس پر میرے چند بااثر اور مخلص شیعی وسنی دوست جو ملکی حالات سے زیادہ باخبر اور جماعت احمدیہ سے حسنِ ظن رکھتے تھے دہلی میں اکٹھے ہوئے اور میرے بچاؤ کی تدابیر پر بحث ہونے لگی۔انہوں نے طویل بحث کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ وہ حکومت کے اعلیٰ ارکان سے مل کر میرا معاملہ رفع دفع کرانے کی کوشش کریں۔مگر مجھے فوراً دہلی کو چھوڑ دینا اور چند دن کسی ایسے مقام پر چلا جانا چاہیئے جہاں کسی قسم کی چالا کی شرارت اور جاسوسی کا امکان نہ ہو۔اس سلسلے میں ان کی نظر قادیان پر پڑی اور مجھے مشورہ دیا کہ میں چند دن کے لئے وہاں چلا جاؤں۔چنانچہ میں کسی دوسرے دوست یا عزیز کو بتائے بغیر قادیان پہنچ گیا اور وہاں میں نے یہ ظاہر کیا کہ وہاں کی عظیم الشان لائبریری سے استفادہ کرنے کی غرض سے آیا ہوں۔چونکہ اس مقصد کے لئے اکثر اعلی علمی ذوق رکھنے والے افراد وہاں پہنچ جایا کرتے تھے اس لئے میری بات پر یقین کر لیا گیا اور