تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 182
تاریخ احمدیت۔جلد 23 182 سال 1965ء ترجمہ: امام جماعت احمدیہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کی وفات انتہائی طور پر پُر از واقعات ایک ایسی زندگی کے اختتام پر منتج ہوئی ہے جو دور رس نتائج کے حامل بے شمار عظیم الشان کارناموں اور مہمات سے لبریز تھی۔آپ علوم وفنون پر حاوی ایک نابغہ روزگار وجود اور بے پناہ قوت عمل سے مالا مال شخصیت تھے۔گزشتہ نصف صدی کے دوران دینی علم وفضل سے لے کر تبلیغ واشاعت اسلام کے نظام تک اور مزید برآں سیاسی قیادت تک فکر و عمل کا بمشکل ہی کوئی ایسا شعبہ ہو گا جس پر مرحوم نے اپنے منفر دانہ اثر کا گہرا نقش نہ چھوڑا ہو۔دنیا بھر میں پھیلا ہوا اسلامی مشنوں کا ایک جال، اطراف و جوانب میں تعمیر ہونے والے مساجد اور عرصہ دراز سے قائم شدہ عیسائی مشنوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے والی تبلیغ اسلام کا افریقہ میں وسیع و عمیق نفوذ۔یہ وہ کار ہائے نمایاں ہیں جو مرحوم کی تخلیقی منصوبہ بندی، تنظیمی صلاحیت اور انتھک جدوجہد کے حق میں ایک مستقل اور پائیدار یادگار کی حیثیت رکھتے ہیں۔حالیہ زمانہ میں بمشکل ہی انسانوں کا کوئی اور ایسا لیڈر ہوا ہو گا جو اپنے متبعین کی اتنی پُر جوش محبت اور جاں نثاری کا مستحق ثابت ہوا ہو۔پھر آپ کے متبعین کی طرف سے پُر جوش محبت اور جاں نثاری کا اظہار صرف آپ کی حیات تک ہی محدود نہ تھا۔بلکہ اس کے بعد بھی اس کا اظہار اسی شدت سے ہوا جبکہ ملک کے تمام حصوں سے ۶۰ ہزار لوگ اپنے جدا ہونے والے امام کو آخری نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لئے دیوانہ وار دوڑے چلے آئے۔جماعت احمدیہ کی تاریخ میں مرزا صاحب کا نام ایک ایسے عظیم معمار قوم کے طور پر زندہ رہے گا جس نے شدید مشکلات کے علی الرغم ایک متحد و مربوط جماعت قائم کر دکھائی اور اسے ایک ایسی قوت بناڈالا کہ جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ہم اس عظیم نقصان پر آپ کے سوگوار خاندان کی خدمت میں دلی تعزیت پیش کرتے ہیں۔حضرت مصلح موعود کا سانحہ ارتحال اور ہندوستانی اخبارات بھارت کے مسلم اور غیر مسلم پریس نے بھی حضرت مصلح موعود کے سانحہ ارتحال کی خبر میں شائع کیں۔مولا نا عبدالماجد صاحب دریا آبادی نے اپنے اخبار ” صدق جدید“ کی ۱۸نومبر ۱۹۶۵ء کی اشاعت میں ایک تعزیتی شذرہ سپر د قلم فرمایا۔جس میں حضرت مصلح موعود کی عظیم الشان اسلامی اور علمی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا:۔