تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 179
تاریخ احمدیت۔جلد 23 179 سال 1965ء موقع ملے ” حضرت مسیح موعود کے خاندان کے افراد کی میتیں یہاں سے نکال کر قادیان لے جا کر دفن کی جائیں۔اس ہدایت کے مطابق مرزا بشیر الدین محمود کو بھی پاکستان کی خاک میں امانت دفن کیا گیا ہے۔روزنامه انجام ۱۱ نومبر ۱۹۶۵ء: احمدیہ فرقہ کے نئے سربراہ 115- احمدیہ فرقہ کے ۷۷ سالہ سربراہ مرزا بشیر الدین محمود کے انتقال کے بعد خلافت کے ارکان انتخابی ادارہ نے ان کے ۵۶ سالہ بڑے صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد کو ان کا جانشین منتخب کر لیا۔مرزا بشیر الدین محمود سپر د خاک کر دیئے گئے لاہور ۹ نومبر۔آج ربوہ کے بہشتی مقبرے میں احمدی فرقے کے ۷۷ سالہ سر براہ مرزا بشیر الدین محمود کو اندرون و بیرون ملک کے ۲۰ ہزار غمگساروں کی موجودگی میں سپردخاک کر دیا گیا۔نماز جنازہ کی قیادت احمدی فرقے کے نئے منتخب سر براہ حافظ ناصر احمد نے کی۔نماز جنازہ کا وقت ٹھیک دس بجے مقرر کیا گیا تھا لیکن اس میں شرکت کی خاطر آنیوالوں کا پانچ گھنٹے تک انتظار کیا گیا۔ان کے مکان سے بہشتی مقبرے کی سڑک کے دونوں طرف ہزاروں افراد چار گھنٹے تک ان کے انتظار میں چشم پرنم کھڑے رہے۔ان میں مرد عورتیں بچے اور بوڑھوں کی تعداد کافی تھی جو اپنی جماعت کے سربراہ کا آخری دیدار کرنے کے لئے پوری متانت اور سنجیدگی کے ساتھ مختلف دعاؤں کا ورد کر رہے تھے۔“ انصاف راولپنڈی ۱۱ نومبر ۱۹۶۵ء: ہفت روزہ انصاف راولپنڈی 1 نومبر میں لکھتا ہے:۔فرقہ احمدیہ کے پیشوا مرزا بشیر الدین محمود احمد بڑا عرصہ علیل رہنے کے بعد وفات پاگئے ہیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔مرزا صاحب فرقہ احمدیہ کے امام ہونے کے علاوہ کشمیر کے تعلق میں ایک بڑی سیاسی اہمیت کے مالک تھے آپ کو اگر کشمیر کی تحریک آزادی کے بانیوں میں سے قرار دیا جائے تو کوئی مبالغہ نہیں ہو گا۔مرزا صاحب آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے بانی اور صدر اول تھے۔اب سے پینتیس سال قبل اسی کمیٹی نے جموں و کشمیر میں تحریک آزادی کو فروغ دیا۔اور اس کی آبیاری کی۔۱۹۳۱ء میں اور اس کے بعد جو ریاست گیر ایجی ٹیشن کئی بار ظہور پذیر ہوئی اس کی قیادت اور حمایت کشمیر کمیٹی کرتی رہی۔دیگر تحریکوں کی طرح سیاسی تحریکیں بھی مالی امداد کے بغیر نہیں چل سکتیں۔چنانچہ