تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 172 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 172

تاریخ احمدیت۔جلد 23 172 سال 1965ء یہاں پہنچ رہے ہیں تا کہ اپنے امام جماعت کی آخری رسوم میں شریک ہوسکیں۔جماعت کے نئے سربراہ کے انتخاب کے بعد کل مرزا بشیر الدین کو سپردخاک کر دیا جائیگا۔وہ جماعت احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے اور جماعت کے خلیفہ ثانی تھے وہ خلیفہ اول حافظ حاجی حکیم نورالدین کی وفات پر ۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء کو خلیفہ دوئم منتخب ہوئے تھے۔اس طرح انہوں نے مسلسل ۵۵ سال احمدی فرقے کی قیادت کی اس وقت اس فرقے کے پیروکار ساری دنیا خاص طور پر افریقہ، یورپ اور امریکہ میں موجود ہیں جن کی تعداد تقریباً تمیں لاکھ بتائی جاتی ہے مرزا بشیر الدین نے اپنی کوششوں سے ۲۹۱ احمدی مساجد بھی قائم کی ہیں۔وہ کئی کتابوں کے مصنف، اچھے مقرر اور شاعر تھے۔جماعت احمدیہ کے ایک پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے تحریک آزادی کشمیر میں نمایاں خدمات انجام دیں وہ ۱۹۳۱ء میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر تھے۔پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا ہے کہ مرزا بشیر الدین نے قیام پاکستان کی تحریک میں بھی نمایاں حصہ لیا۔یوپی میں اوائل ۱۹۲۲ء میں آریہ سماج نے جب شدھی تحریک چلا رکھی تھی اس وقت انہوں نے اس تحریک کو کچلنے میں بھی کافی سرگرم حصہ لیا۔مرزا بشیر الدین کی نماز جنازہ بہشتی مقبرہ گراؤنڈ میں کل صبح دس بجے پڑھائی جائے گی اور وہیں انہیں دفن کیا جائے گا۔نماز جنازہ منتخب خلیفہ سوم پڑھائیں گے۔صدر محمد ایوب خان نے مرزا بشیر الدین کی وفات پر مرزا نصیر ( ناصر ) احمد کو ایک تعزیتی پیغام بھیجا ہے جس کا متن حسب ذیل ہے مجھے مرزا بشیر الدین محمود کی وفات پر صدمہ پہنچا ہے اللہ انہیں سکون عطا کرے خدا آپ کو ، ان کے پسماندگان کو اور پیروکاروں کو صبر جمیل عطا کرے۔“ ہ نئی روشنی کراچی، انومبر ۱۹۶۵ء: لاہور 9 نومبر۔احمدیہ فرقے کے پیشوا مرزا بشیر الدین محمود کو آج صبح ربوہ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔مرحوم کے جنازے میں شرکت کے لئے دنیا کے گوشے گوشے سے ان کے معتقدین آئے تھے۔مرزا بشیر الدین محمود نے جو ۱۹۱۴ء میں اپنے فرقہ کے خلیفہ منتخب کئے گئے تھے بڑی پر مشقت زندگی گزاری۔انہوں نے یورپ امریکہ اور افریقہ میں خاص طور پر زبر دست تبلیغی مساعی کیں اور اس مقصد کے لئے دو بار مغربی ممالک کا دورہ بھی کیا۔احمدیہ تبلیغی سینٹ کو افریقہ کی مغربی ساحل پر واقع ممالک میں خاصی کامیابی بھی ہوئی۔مرزا صاحب نے اپنی یادگار کے طور پر خاص مذہبی لٹریچر چھوڑا ہے۔انہوں نے سیاسی تحریکوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔۱۹۲۲ء میں انہوں نے یوپی میں آریہ