تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 160 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 160

تاریخ احمدیت۔جلد 23 160 سال 1965ء ”یہ تقریر جماعت احمدیہ ( قادیانی) کے نئے امام نے سابق امام کے جنازے کے سامنے لاؤڈ سپیکر پر کی۔اس بحث میں نہ الجھئے کہ عہد لینے والا کون تھا اور اس کے عقیدے کیا ہیں اور کیا نہیں۔نظر صرف اس پر جمائیے کہ خود یہ عہد کیسا ہے اور ہم کو اور آپ کو اس سے کوئی سبق ملتا ہے یا نہیں ؟ قادیان دارالامان میں اندوہناک خبر کی اطلاع اور نماز جنازہ 109 نومبر کی صبح قادیان دارالامان میں حضرت مصلح موعود کے وصال مبارک کی خبر سنتے ہی مقامی طور پر قادیان کے احمد یہ محلہ میں غم واندوہ کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔اشکبار آنکھوں اور نمکین دلوں اور لڑکھڑاتے قدموں سے بھی اہالیان احمد یہ محلہ دار امیج میں محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہونے شروع ہو گئے۔کچھ دیر بعد احباب جماعت کثیر تعداد میں مسجد مبارک میں جمع ہوئے۔اس جانکاہ صدمہ کے سبب سبھی بے حال ہوئے جارہے تھے۔محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ آگے بڑھے اور محراب میں کھڑے ہو کر بڑے ہی مؤثر اور دلنشیں انداز میں اس صدمہ عظیمہ پر احباب جماعت کو اسلامی صبر کا اعلیٰ نمونہ دکھانے اور غیر معمولی دعاؤں پر زیادہ زور دینے اور کثرت سے استغفار کرنے کی طرف توجہ دلائی۔رقت سے پُر بھتر ائی ہوئی آواز میں آپ نے حاضر الوقت احباب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا یہ وقت ہر انسان پر آنا ضروری ہے۔آپ میں سے ہر شخص اپنے اُس گہرے روحانی تعلق کی وجہ سے اس صدمہ کی وجہ سے اندوہنگیں ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حضور نے اپنے ا۵ سالہ دورِ خلافت میں جس طرح جماعت کے سروں پر ایک مشفق باپ کی طرح اپنا مبارک ہاتھ رکھا۔اور ہر موقعہ پر جماعت کی بہترین رہنمائی فرمائی۔وہ ایک کھلی کتاب ہے۔آپ نے فرمایا جماعت کے ہر فرد کوحضورانور سے جو والہانہ عقیدت اور سچی محبت تھی وہ کسی پر پوشیدہ نہیں۔مجھے اس کا احساس ہے۔اور حضور کے ساتھ احباب جماعت کا یہ گہر ا روحانی تعلق ہی ہے کہ اب حضور کے مقدس وجود کو اپنے اندر نہ پا کر اور حضور کی جدائی سب پر شاق گزرتی ہے۔آپ نے فرمایا اگر چہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اپنے سروں سے حضور کے بابرکت سایہ کے اٹھ جانے سے آج ہم اپنے تئیں گویا یتیم محسوس کرتے ہیں لیکن برگزیدہ اور باخدا روحانی جماعت کے افراد ہونے کی وجہ سے ہمارے دل اس یقین سے معمور ہونے چاہئیں کہ ہمارا زندہ خدا ہمیں ہمیشہ