تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 161
تاریخ احمدیت۔جلد 23 161 سال 1965ء کے لئے یتیم نہیں رہنے دے گا۔وہ اپنی خاص حکمتوں کے تحت ایسے افراد کو کھڑا کرتا چلا جائے گا جو جماعت کی صحیح قیادت کرتے چلے جائیں۔اس لئے احباب جماعت کو سب سے پہلے تو اس صدمہ عظیمہ کو اعلیٰ درجہ کے اسلامی صبر کے ساتھ برداشت کرنا چاہیئے۔بوجہ تقاضا فطرت بے شک اس وقت ہماری آنکھیں آنسو بہاتی ہیں۔اور دل نہایت درجہ غمگین ہیں لیکن ہماری زبانوں پر کوئی ایسی بات یا کلمہ نہیں آنا چاہیئے جو اسلامی تعلیمات اور احمدیت کی روایات کے خلاف ہو اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضا کے منافی ہو۔آپ نے فرمایا دوسرے نمبر پر اس وقت ہمیں بہت زیادہ استغفار کرنا چاہیئے۔اور خاص دعاؤں میں لگ جانا چاہیئے۔کہ اللہ تعالیٰ جماعت کی خاص راہنمائی فرمائے۔اور جماعت کی صحیح قیادت کے سامان فرمائے۔آپ نے فرمایا اس وقت جماعت پر نئے خلیفہ کے انتخاب کی ایک بھاری اور نازک اہم ذمہ داری آن پڑی ہے۔دوست دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ انتخاب میں حصہ لینے والوں کی اپنے فضل سے خود را ہنمائی فرمائے اور اس شخص کو سامنے لائے جو اس کی نظر میں موزوں اور اس اہم ذمہ داری کے قابل ہو۔اور یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے اور جماعت کی وحدت کو قائم رکھے۔محترم صاحبزادہ صاحب کی تقریر کے بعد حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب فاضل امیر مقامی نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار فرمایا۔بعدہ ایک پُر سوز اجتماعی دعا کی گئی جس میں مردوں کے علاوہ مستورات اور بچوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔مستورات مسجد مبارک کے شمالی طرف بیت الفکر اور دالان حضرت اماں جان میں جمع تھیں۔نظارت علیا کی طرف سے ملک کی بڑی بڑی جماعتوں کو بذریعہ تار اس اندوہناک خبر سے آگاہ کیا گیا۔بعد نماز عصر مسجد مبارک میں حضور کی نماز جنازہ غائب ادا کی گئی۔ریڈیو پاکستان سے وفات ، نماز جنازہ اور تدفین کی اطلاعات 110 ریڈیو پاکستان نے ۸ نومبر ۱۹۶۵ء کو اپنے مختلف نیوز بلیٹوں میں چار مرتبہ حضرت مصلح موعود کی وفات کی اطلاع نشر کی اور اگلے روزنماز جنازہ اور تدفین کی بھی خبر نشر کی گئی۔111