تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 159 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 159

تاریخ احمدیت۔جلد 23 159 سال 1965ء اس عہد کی تجدید کے وقت صفوں میں کھڑے ہوئے احباب پر ایسا رقت اور سوز و گداز کا عالم طاری ہوا کہ لوگوں کی چیخیں نکل گئیں اور انشاءاللہ انشاء اللہ کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔درد و سوز اور رقت کے عالم میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۴ بجگر ۴۰ منٹ پر نماز جنازہ پڑھائی۔جس میں تکبیر تحریمہ سمیت چھ تکبیریں تھیں نماز کے دوران سوز و گداز کی حالت میں بعض احباب کی چیخیں نکل گئیں اور فضا ہچکیوں اور سسکیوں کی درد ناک آواز سے گونج اٹھی۔بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین نماز کے بعد ۴ بجگر ۴۵ منٹ پر جنازہ حضرت اماں جان تو راللہ مرقدہا کے مزار اقدس کی چار دیواری کے اندر لے جایا گیا۔چار دیواری کا احاطہ محدود ہونے کے باعث خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد کے علاوہ صرف ان احباب کو ہی جنہوں نے قصر خلافت کے احاطہ میں جنازہ کو کندھا دیا تھا جنازہ کے ہمراہ چار دیواری کے اندر جانے کی اجازت دی گئی۔باقی ہزاروں ہزار افراد چار دیواری سے باہر بہشتی مقبرہ کے احاطہ میں دعائیں کرتے اور درود شریف پڑھتے رہے کہ تابوت کو قبر کے اندرا تارنے میں حضرت خلیفتہ المسیح الثالث اور سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی کے دیگر فرزندان اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دیگر افراد اورصحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں سے علی الخصوص حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے دیرینہ طبی خادم حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب نے بھی حصہ لیا۔بعد ازاں چار دیواری کے اندر موجود افراد نے لحد کومٹی دی جس کے بعد شام کو بجگر ۳۵ منٹ پر تد فین مکمل ہوئی۔سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے جسد اطہر کو حضرت اماں جان نوراللہ مرقدہا کے مزار اقدس کے پہلو میں جانب شرق دفن کیا گیا ہے۔قبر تیار ہونے پر حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے ایک پُر سوز رقت آمیز دعا کرائی۔یہ دعا بھی دردو سوز اور تضرع ابتہال کے لحاظ سے ایک خاص شان کی حامل تھی۔(اس کے بعد ) ہزاروں ہزار سوگوار احباب ۲ بجگر ۴۰ منٹ پر بہشتی مقبرہ سے واپس ہوئے۔108 6 ، مولا نا عبدالماجد صاحب دریا آبادی نے اپنے مؤقر جریدہ ” صدق جدید لکھنو میں ایک تجدید عہد کے زیر عنوان حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کے نماز جنازہ سے قبل تجدید عہد کئے جانے کے واقعہ کو بیان کیا اور پھر یہ عہد شائع کرنے کے بعد اپنے قارئین سے ایک سوال کیا ہے جو یہ تھا کہ:۔