تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 141 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 141

تاریخ احمدیت۔جلد 23 141 سال 1965ء بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرزیہ ولید گرامی ارجمند مظہر الاول والآخر مظہر الحق واهلاء سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الثانی المصلح الموعود کا وصال إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ربوه ۸ نومبر بروز دوشنبہ۔خدائی مقدرات کے ماتحت بالآخر وہ المناک گھڑی آن پہنچی جس کے تصور سے مومنوں کے دل لرز رہے تھے، جسموں پر کپکپی طاری تھی اور آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔یعنی سید نا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ مسیح الثانی الصلح الموعود قریب ستر ۷۷ سال تک بفضل اللہ تعالیٰ دنیا کو بیشمار فیوض و برکات سے نواز نے علوم و معارف سے مالا مال کرنے تبلیغ و اشاعتِ اسلام کے ایک عالمگیر نظام کے ذریعہ دنیا کے چپہ چپہ پر اسلام کا جھنڈا لہرانے اور اطراف و جوانب عالم میں لاکھوں انسانوں کو حلقہ بگوش اسلام بنانے اور دنیا کو ایک عظیم الشان روحانی انقلاب سے ہمکنار کرنے کے بعد مورخہ ۷، ۸ نومبر ۱۹۶۵ء مطابق ۱۳ ۴ ارجب ۱۳۸۵ھ کی درمیانی شب جو دوشنبہ کی رات تھی ۲ بجگر ۲۰ منٹ پر اس جہانِ فانی سے رحلت فرما کر اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُوالْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ - (الرحمن: ۲۸،۲۷) اس میں شک نہیں کہ ہمارے لئے یہ انتہائی روح فرسا اور جگر پاش خبر ہے جس کو سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے اور دل و دماغ کو ایک بجلی کا سا دھکا لگتا ہے۔مگر حقیقت بہر حال حقیقت ہے۔ہم اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہیں۔ہم عظیم صدمہ کی اس گھڑی میں اپنے پیارے امام نو راللہ مرقدہ کے مبارک الفاظ میں احباب جماعت کو یہ کہتے ہیں:۔ابتلاؤں کا آنا ایسی ضروری بات ہے کہ نبیوں کی کوئی جماعت ایسی نہیں ہوئی کہ جس پر ابتلاء نہ آئے ہوں۔ابتلاء تمہارے لئے خوف و خطر کا باعث نہیں ہو سکتے۔مومن کو کبھی ڈر نہیں ہوتا۔اس پر جب ابتلاء آتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس ابتلاء کے ساتھ ہی خدا کی مدد بھی آ رہی ہے“۔101