تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 127
تاریخ احمدیت۔جلد 23 127 سال 1965ء فیملیز کے متعلق آمدہ تار اور وضاحتی چٹھی تیار کر کے ساتھ لے گئے۔پرائم منسٹر صاحب کے اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری شری آر کے گوئل صاحب سے ملے۔انہوں نے ہماری چٹھی اور آمدہ تا روز یر اعظم کی خدمت میں پیش کر کے ہمیں بتانے کو کہا۔چنانچہ ڈیڑھ گھنٹہ کے انتظار کے بعد انہوں نے بتایا کہ فیملیز کی رہائی کے متعلق ہمیں ہوم منسٹر شری گلزاری لال نندہ سے ملنا چاہئے۔مورخہ ۲۰ ستمبر ۱۹۶۵ کو اس معاملے کے تعلق میں ہم میر مشتاق احمد صاحب اور پروفیسر ڈی سی شر ما ایم پی شری جے سکھ لال ہاتھی سٹیسٹ منسٹر ہوم اور وزارت داخلہ کے ڈپٹی منسٹر شری للت نرائن مسرا سے بھی ملے۔اس تعلق میں ہماری ملاقات مورخه ۲۱ ستمبر ۱۹۶۵ء کو نمبر صفدر جنگ کوٹھی پر شریمتی اندرا گاندھی سے بھی ہوئی وہ اس وقت پہلی مرتبہ محکمہ اطلاعات و نشریات کی وزیر بنی تھیں۔ان کو ہم نے فیملیز کے متعلق قادیان سے آمدہ تار دکھایا اور پنڈت نہرو کی ہمد در دانہ توجہ کے حوالے سے اور اس لحاظ سے کہ یہ معاملہ عورتوں اور بچوں سے تعلق رکھتا ہے اور وہ ایک عورت ہونے کے ناطے ان کی مشکلات اور پریشانیوں کو دوسروں سے زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتی ہیں۔انہوں نے ہماری بات سن کر اس معاملہ میں مدد کرنے کا وعدہ کیا۔اگلے روز مورخہ ۲۳ ستمبر ۱۹۶۵ء کو ہمیں وزیر داخلہ شری گزاری لال نندہ سے ملاقات کرنے کا وقت مل گیا۔ہمارا وفد خاکسار، مکرم مولوی بشیر احمد صاحب فاضل ،کرم محمد سلیم صاحب سہگل، مکرم رحمت اللہ صاحب پر مشتمل تھا )۔پروفیسر دیوان چند شر ما صاحب نے ہمارے وفد کا اور جماعت کا تعارف کروایا۔نندہ جی نے حکومت پنجاب کو جلد ضروری ہدایات بھجوانے کا وعدہ فرمایا۔چنانچہ مورخہ ۲۳ستمبر ۱۹۶۵ء کو ہمیں شری شر ما صاحب کے ذریعہ معلوم ہو گیا کہ ہماری حد یہ فیملیز کو لدھیانہ سے واپس قادیان بھجوانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ایک دو روز بعد ہم کو قادیان سے بھی بذریعہ تار یہ اطلاع مل گئی کہ فیملیز واپس قادیان بھجوادی گئیں ہیں۔چونکہ انڈو پاک جنگ کی وجہ سے حالات مخدوش تھے اس لئے خاکسار کو مرکز قادیان سے یہ ہدایت تھی کہ جب تک آمد و رفت کے متعلق مجھے قادیان سے تسلی بخش اطلاع نہیں مل جاتی اس وقت تک دہلی میں ہی قیام کروں۔تین چار روز بعد خاکسار کو قادیان سے بذریعہ تا را طلاع ملنے پر خاکسار مورخہ ۲۹ ستمبر ۱۹۶۵ء کو دہلی سے روانہ ہو کر مکرم مولوی جلال الدین صاحب کے ہمراہ بخیریت امرتسر اور وہاں سے بذریعہ ٹیکسی قادیان پہنچا۔