تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 128
تاریخ احمدیت۔جلد 23 128 سال 1965ء روانگی سے قبل خاکسار نے ہندوستان کی جماعتوں کو فیملیز کے تعلق میں اور اپنی واپسی کے تعلق میں بذریعہ سرکلر اطلاع کر دی۔میری دہلی سے روانگی سے ایک روز قبل مکرم میاں محمد عمر صاحب سہگل کی کلکتہ میں رہائی کے متعلق بھی اطلاع مل گئی۔امرتسر کے اسٹیشن پر قادیان سے مکرم مولوی برکت علی صاحب انعام خاکسار کو رسیو کرنے کے لئے جماعت کی طرف سے آئے ہوئے تھے۔الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان نازک حالات میں کچھ خدمت کی توفیق بخشی۔جنگ ستمبر کے متاثرین کی بے لوث خدمت 91 ستمبر ۱۹۶۵ء میں پاکستان اور بھارت میں جو جنگ ہوئی تھی وہ اگر چہ سترہ دن جاری رہ کر ختم ہو چکی تھی لیکن جنگ سے متاثرہ بہت سے لوگوں کی امداد اور بحالی کا کام ایک لمبے عرصہ تک جاری رہا۔اسی جنگ کی وجہ سے لاہور اور سیالکوٹ کے سرحدی متاثرہ علاقوں کے بہت سے لوگ ان دنوں ربوہ میں پہنچ گئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لنگر خانہ سے اُن کے لئے کھانے کا تسلی بخش با قاعدہ انتظام کیا گیا۔اس طرح اُن کی رہائش کا بھی یہ انتظام اس وقت تک برابر جاری رہا۔جب تک کہ حکومت پاکستان کی طرف سے اُن کی مستقل آباد کاری کا انتظام نہیں کر دیا گیا۔ان مظلوم اور ستم رسیدہ لوگوں کو نظارت امور عامہ کی زیر نگرانی جو پار چات تقسیم کئے گئے ان کی تفصیل یہ تھی مکمل بستر ، جن میں سے ہر بستر میں لحاف ، تو شک کھیں، چادر اور تکئے شامل ہیں ۳۹۵۔اور پہننے کے پار چات ۲۵۴۵۔ان سلا کپڑا ۳۰۰ گز۔اس کے علاوہ گرم سو میٹر اور جوتے وغیرہ بھی شامل تھے۔اس کے علاوہ نظارت امور عامہ صدرا مجمن احمدیہ پاکستان نے ریاست جموں وکشمیر کے بے خانماں مہاجرین کے لئے ۲۲۷ مربع فٹ کی ریلوے ویگن ربوہ سے آزاد کشمیر بھجوانے کے لئے بک کرائی۔جس میں حسب ذیل سامان تھا۔۲۷۰ مکمل بستر (مشتمل برلحاف توشک، تکیہ کھیں) سویٹر، پتلون کوٹ وجیکٹ ،لوئی وکمبل، قمیص زنانہ و مردانہ اور بچگانہ کپڑے ۵۰۰۰۔اس کے علاوہ برتن ، ادویہ، جوتے ،صابن و کنگھیاں وغیرہ سامان بھی کافی تعداد میں بھجوایا گیا۔اس سامان میں مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ اور وقف جدید کی طرف سے جمع کردہ اشیاء بھی شامل تھیں۔نیز صدرانجمن احمد یہ پاکستان و اہالیان ربوہ کی طرف سے ایک لاکھ چھیاسی ہزار روپی دفاعی فنڈ