تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 124 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 124

سال 1965ء تاریخ احمدیت۔جلد 23 124 نے بھی دس ہزار روپے کا عطیہ دیا ہے۔امام جماعت احمدیہ نے ایک لاکھ روپے قومی دفاعی فنڈ میں دیئے ہیں۔فضل عمر ہسپتال، تعلیم الاسلام ہائی سکول، فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، نصرت انڈسٹریل سکول اور جامعہ احمدیہ کے اسٹاف نے بھی اپنی ایک ماہ کی تنخواہ کا تیسرا حصہ قومی دفاعی فنڈ میں دیا ہے۔جونیئر ماڈل سکول ربوہ کے بچوں نے ۱۰۰ روپے جیب خرچ سے دیئے ہیں۔حضرت سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ کا منظوم پیغام خواتین احمدیت اپنے محبوب وطن کی حفاظت و دفاع کے لئے کس درجہ بے پناہ جذبہ سے سرشار تھیں اس کا کسی قدر اندازه حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے حسب ذیل منظوم پیغام سے بخوبی لگ سکتا ہے جو آپ نے اُن دنوں پاکستان کے سرفروش مجاہدین کے نام دیا۔آپ کا یہ پیغام ہمیشہ آب زر سے لکھا جائے گا۔آپ نے فرمایا:۔مومن قدم بڑھا کے ہٹاتے نہیں ان کو قضا کے تیر ڈراتے نہیں کبھی کبھی بڑھتے چلو کہ منزلِ مقصد قریب ہے بڑھتے چلو کہ نصرت حق ہے تمہارے ساتھ رحمت خدا کی آئے گی خود پیشوائی کو مردانہ وار بڑھتے ہیں سینہ سپر کئے غازی عدد کو پیٹھ دکھاتے نہیں کبھی 66 اپنے خدا کا ہاتھ دکھا دو خدائی کو جنت کے در کھلے ہیں شہیدوں کے واسطے بڑھتے چلو کہ منزل مقصد قریب ہے 20 ربوہ میں سجدات شکر اور خصوصی دعائیں ۲۴ ستمبر ۱۹۶۵ء کو ربوہ کے مخلص احمدی خدائی تائید و نصرت پر سجدات شکر بجالائے اور انہوں نے پاکستان کے لئے خصوصی دعائیں کیں۔چنانچہ الفضل اپنی ۲۶ ستمبر ۱۹۶۵ء کی اشاعت میں لکھتا ہے :۔