تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 123 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 123

تاریخ احمدیت۔جلد 23 123 سال 1965ء بعض افراد اور جماعتوں نے نظارت ہذا سے چند امور کی وضاحت چاہی ہے۔ہر چند کہ یہ امور واضح ہیں اور اکثر احباب کو پہلے ہی ان کا علم ہے۔تاہم احباب کی یاد دہانی کے رنگ میں اعلان کیا جاتا ہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے جو مجاہد فورس قائم ہوئی ہے اور نیشنل گارڈز وغیرہ کی تنظیمیں جو اس وقت ملک کے دفاع کے واسطے قائم کی جارہی ہیں۔احباب جماعت ان میں نہ صرف خود حصہ لیں بلکہ اپنے دوست و احباب کو بھی اس میں شمولیت کی تحریک کریں۔بری، بحری اور فضائی فوج میں خود بھی بھرتی ہوں اور دوسرے احباب کو بھی شامل ہونے کی ترغیب دیں۔فی الحال گورنمنٹ کو کوئی ایسی ضرورت نہیں جس کے لئے مرکز کی طرف سے کوئی علیحدہ تنظیم قائم کی جائے۔حکومت نے ایک قومی دفاعی فنڈ قائم کیا ہے، احباب جماعت کو چاہیئے کہ مقامی طور پر اس میں خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔خود بھی چندہ دیں اور دوسرے افراد کو بھی اس بات کی تلقین کریں کہ وہ اس قومی ضرورت کے پیش نظر قربانی اور ایثار کا قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی طرح نمونہ پیش کریں۔اپنی جماعت میں چندہ اکٹھا کر کے پریذیڈنٹ کی معرفت دیا جائے اور نظارت ہذا کو بھی اطلاع دی جائے تا کہ مرکز کو بھی معلوم ہو سکے کہ جماعت کس حد تک اس کارِ خیر میں حصہ لے رہی ہے۔ربوہ آنے کے متعلق حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا تازہ ارشاد یہ ہے کہ کوئی احمدی مرد اور عورت اپنے شہر قصبہ یا گاؤں کو ہرگز نہ چھوڑے سوائے اس کے کہ حکام وقت دفاعی مصالح کے پیشِ نظر ان مقامات کو خالی کروانا چاہتے ہوں۔دعاؤں اور قربانیوں کے ساتھ اپنے محبوب وطن کو مستحکم اور نا قابل تسخیر بنادیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔قومی دفاعی فنڈ کے لئے جماعت احمدیہ پاکستان کے عطیات ان دنوں قومی دفاعی فنڈ میں جماعت احمدیہ پاکستان کے ادارے، مقامی جماعتیں اور افراد دل کھول کر چندہ دے رہے تھے۔جماعت کی طرف سے پیش کئے جانے والے بعض عطیہ جات کی تفصیل روز نامہ امروز‘ لاہور مورخہ ۹ را کتوبر ۱۹۶۵ء میں بھی شائع ہوئی جو درج ذیل ہے:۔کارکنان صدر انجمن احمد یہ ربوہ نے ۳۵ ہزار روپے دیئے ہیں۔جامعہ نصرت (برائے خواتین ) کے اسٹاف نے دو ہزار پانچ سوروپے، طالبات جامعہ نصرت نے ۱۳۷ روپے نقد ، ہیں سیر صابن، ایک کنستر تیل اور چوبیس اونی سویٹر اپنے ہاتھوں سے بن کر دیئے ہیں۔تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے سٹاف نے بھی ۱۲ ہزار روپے قومی دفاعی فنڈ میں دیئے ہیں۔مقامی خواتین کی مجلس لجنہ اماءاللہ ربوہ