تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 122 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 122

تاریخ احمدیت۔جلد 23 122 سال 1965ء اس وقت جبکہ ہندوستان نے ہماری مقدس سرزمین پر حملہ کیا ہوا ہے۔ہماری پاکستانی خواتین پر ملک کی حفاظت اور دفاع کا اہم فریضہ عائد ہوتا ہے۔تاریخ سے ثابت ہے کہ ہمیشہ ہی مسلمان خواتین نے اسلام کی خاطر بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں۔(۱) سب سے بڑی ذمہ داری جو مستورات کو انجام دینی ہے وہ یہ ہے کہ بڑے سے بڑے خطرہ کے وقت بھی نہ گھبرائیں۔مومن کی نگاہ صرف خدا تعالیٰ کی طرف رہتی ہے۔خود دلوں میں کسی قسم کا خوف نہ پیدا ہونے دیں اور اپنے بچوں کو دلیر بنائیں۔کسی قسم کی افواہ کو نہ پھیلنے دیں۔عورتوں میں عموماً یہ عادت پائی جاتی ہے کہ بات سنی اور دوسری جگہ کر دی۔اس عادت کو قطعاً چھوڑ دیں۔موجودہ حالات میں افواہوں کا پھیلنا ہمارے ملک کے لئے مضر بر سکتا ہے۔(۲) تمام لجنات اپنی اپنی جگہ پر ابتدائی طبی امداد کے مراکز قائم کر کے عورتوں اور لڑکیوں کو تربیت دیں تا کہ ضرورت پڑنے پر قوم کے کام آسکیں۔اپنی رپورٹوں میں اس کا ذکر بھی کریں۔(۳) تمام لجنات مجاہدین کے لئے سویٹر بننے کا انتظام کریں۔چندہ جمع کر کے اون خرید کر ہر ممبر 88 کی طرف سے کم از کم ایک سویٹر بنوا کر دیا جائے۔یہ کام عورتیں آسانی سے کرسکتی ہیں۔میں امید کرتی ہوں کہ تمام لجنات جلد از جلد ان کاموں کو شروع کر کے اطلاع دیں گی۔لاہور میں امدادی مرکز مجلس خدام الاحمدیہ کا قیام ہنگامی صورتحال کے پیش نظر جسونت بلڈنگ لاہور میں امدادی مرکز مجلس خدام الاحمدیہ کا قیام عمل میں لایا گیا اور امدادی اور رفاہی خدمات کی بہ سہولت انجام دہی کے لئے لاہور کو دس سیکٹرز میں تقسیم کر دیا گیا۔امدادی مرکز میں دو مشاورتی اور امدادی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔امدادی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری شیخ مبارک محمود پانی پتی تھے جنہوں نے امدادی مرکز سے متعلق ایک مفصل چارٹ شائع کیا۔جس میں مشاورتی کمیٹی ، امدادی کمیٹی اور سیکٹرز کے نام دے کر ایک با قاعدہ مربوط نظام قائم کیا گیا تھا۔(اس چارٹ کی کاپی شعبہ تاریخ احمدیت میں محفوظ ہے۔) ملکی دفاع کے لئے احباب جماعت کو خصوصی تحریک محترم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ناظر امور عامہ صدرانجمن احمد یہ پاکستان کی طرف سے الفضل ۸ ستمبر ۱۹۶۵ء میں حسب ذیل اعلان شائع ہوا:۔