تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 115 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 115

تاریخ احمدیت۔جلد 23 115 سال 1965ء گئے تھے کہ اچانک دشمن کی توپوں نے گولے برسانے شروع کر دیے ایک گولہ ان کے پاس پھٹا جس کا ایک ٹکڑا ان کی پسلیوں کے نیچے دائیں جانب لگا اور ایک چھوٹا ٹکڑا دائیں طرف چہرے پر لگا۔عزیز و ہیں فوراً شہید ہو گئے۔اور اپنے پیچھے ایک نہ مٹنے والی یاد چھوڑ گئے۔عزیز کی نعش کو اگلے روز مردان پہنچایا گیا جہاں انہیں ان کے والد بزرگوار کے پہلو میں دفنادیا گیا۔عزیزم نے اپنی یادگار ایک بیوہ ( عزیزہ مجیدہ بیگم صاحبہ بنت مکر می خواص خاں صاحب ) اور تین چھوٹے کمسن بچے زاہدہ، مبشر اور ثمینہ عمر پونے چھ سال، چارسال اور دوسال چھوڑے ہیں۔عزیز بڑے ہی ملنسار تھے۔ان کا حلقہ احباب بڑا ہی وسیع تھا۔یہ سب لوگ جہاں اس بات پر بہت غمزدہ ہیں کہ ان کا ایک نہایت عزیز اور خلیق دوست ہمیشہ کے لئے ان سے رخصت ہو گیا وہاں انہیں اس بات کا بھی بڑا فخر ہے کہ وہ اپنے ملک کی حفاظت کرتے ہوئے شہادت کے ارفع درجے کو پا گیا۔عزیزم مرحوم کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی سے بڑی ہی عقیدت تھی اور ہر جلسہ پر ہمیشہ ہی کوشش ر کرتے کہ انہیں حفاظت خاص کی ڈیوٹی مل جائے تا کہ وہ زیادہ سے زیادہ دیر تک اپنے محبوب آقا کے پاس رہ سکیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سرحد کی جماعت کا بڑا ہی خیال رکھتے تھے اور اس طرح یہاں والے بھی حضرت صاحبزادہ صاحب کا خاص احترام کیا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت قاضی محمد یوسف صاحب اور عزیز قاضی بشیر مرحوم بھی ہمیشہ حضرت صاحبزادہ صاحب کو بڑے ہی تپاک اور گرمجوشی سے ملتے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی وفات کے چند روز قبل قاضی بشیر مرحوم آپ سے مری میں ملنے گئے۔اور باوجود بیماری اور ممانعت ملاقات حضرت صاحبزادہ صاحب نے بشیر کو اپنے پاس بلوالیا اور ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے سینے پر رکھ کر بڑی دیر تک دعا کرتے رہے۔اس واقعہ کا اثر قاضی بشیر مرحوم پر بہت تھا اور اسے وہ بڑے فخر سے یاد کیا کرتے تھے۔جب بشیر محاذ جنگ پر جانے لگے تو میری اہلیہ نے انہیں بطور تبرک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قمیص کا ایک ٹکڑا دیا۔اسے پا کر وہ بڑے ہی خوش ہوئے جیسے دنیا جہاں کی نعمت مل گئی۔اور پھر اسے اپنے ساتھ ہی رکھا۔یہاں تک کہ وہ اپنے وطن کے دفاع کی خاطر اپنی جان کی قربانی دے کر اللہ کو پیارے ہوئے۔84