تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 109 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 109

تاریخ احمدیت۔جلد 23 109 سال 1965ء اور ہنستے ہوئے داخل ہوئے۔زندگی میں بہت دفعہ پریشانی کے لمحات اور دور آئے لیکن اپنی پریشانیوں کو خود پر حاوی نہ ہونے دیا۔اپنی مشکلات کا تذکرہ بھی گھر میں نہ کیا تا کہ گھر کا ماحول مکڈ رنہ ہو۔بیوی بچوں پر اثر نہ ہو۔کئی مرتبہ اس بات پر میں نے اظہار ناراضگی کیا کہ اپنی پریشانی یا تکلیف کا تذکرہ گھر میں کیا کریں۔ہمیشہ یہی کہا کرتے کہ میں کہتا ہوں تمہیں کیوں پریشان کروں۔طبیعت میں شگفتگی بہت تھی۔بعض اوقات میں نے کسی بات پر ناراضگی کا اظہار کرنا چاہا تو فوراً لاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ پڑھ کر نظروں سے اوجھل ہو جاتے تاکہ بات وہیں ختم ہو جائے۔غرضیکہ ہر وقت یہی کوشش ہوتی کہ گھر کا ماحول نہایت خوشگوار ہو۔میں خدا تعالیٰ سے اکثر دعا مانگا کرتی تھی۔شادی سے پہلے بھی اور شادی کے بعد بھی کہ ”ہمارا گھر ہومثل باغ جنت سو شہید کے بابرکت وجود کی وجہ سے فی الحقیقت ہماری گھر یلو زندگی مثل باغ جنت تھی۔بچوں سے والہانہ محبت کرتے تھے اور بچے بھی مجھ سے زیادہ اپنے ”ابی جان“ کے ساتھ لگاؤ رکھتے تھے لیکن ساتھ ہی ساتھ بچوں کی تربیت کا بہت خیال رکھتے تھے اور اس مقصد کے لئے چھوٹے چھوٹے انعام مقرر کر دیتے تا کہ اچھے کام کرنے کا جذبہ اور عادت بچوں میں راسخ ہو جائے۔اس بات کی بہت خواہش اور کوشش تھی کہ بچوں میں اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت پیدا ہو اور اس بارے میں سختی اور سرزنش سے بھی گریز نہ کرتے تھے۔شہادت سے کچھ ماہ قبل شہید نے اپنی عادت بنالی تھی کہ صبح کی نماز پڑھنے کے بعد دونوں بچوں کی (جن کی عمریں ۸ اور ۶ سال ہیں ) چار پائیوں کے قریب جاتے اور سوئے ہوئے بچوں کے کانوں میں آہستہ آہستہ تلاوتِ قرآن کریم کرتے۔بچے مسکراتے ہوئے جاگ جاتے۔پھر انہیں پیار کرتے اور کہتے اٹھو بیٹا نماز پڑھ لو۔اپنے ماتحت عملہ اور ریلو ملازموں سے نہایت نرمی اور محبت کا سلوک کرتے تھے۔اسی طرح بچوں کو بھی تلقین کرتے رہتے تھے کہ غریب لوگوں کے ساتھ نرمی سے اور آہستہ آواز سے بولنا چاہیئے۔غریب نواز بہت تھے۔طبیعت میں حد درجہ انکساری تھی۔باوجود اپنی سرکاری مصروفیات کے ایک مرتبہ بہت سے احمدی طالب علموں کو جو کہ صاحب حیثیت نہ تھے گھر پر کئی ماہ تک شارٹ ہینڈ سکھاتے رہے تا کہ انہیں اچھی ملازمت مل جائے۔گھر پر ایسے نادار لوگوں کا تانتا لگارہتا جو کہ نوکریوں کی تلاش میں سرگرداں ہوتے۔اکثر کو دوڑ دھوپ کر کے ان کے حسب لیاقت ملازمت دلوا دیتے اور اس امر کے لئے جہاں جہاں بھی جانا پڑتا جاتے۔اور بالفرض کسی کے لئے اگر ملازمت مہیا نہ کر سکتے تو