تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 108
تاریخ احمدیت۔جلد 23 108 سال 1965ء خواجہ منیر احمد شہید کے بڑے بھائی خواجہ جمیل دوسری جنگ عظیم میں شہید ہوئے اور چھوٹے بھائی کیپٹن محمد طیب سیالکوٹ کے محاذ پر دشمن سے برسر پیکار ہیں۔خواجہ منیر احمد شہید کے پسماندگان میں تین بیٹے اور ایک بیوی شامل ہیں۔میجر منیر احمد شہید کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کے شہید شوہر کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ وہ کشمیر کی آزادی، مادر وطن کی حفاظت اور اسلام کی سربلندی کے لئے جام شہادت نوش کریں۔انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گی اور اپنے بچوں کو بھی فوج میں شامل کرا دیں گی تاکہ وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملک اور قوم کی حفاظت و خدمت کر سکیں“۔محترمه حسن آرا منیر صاحبہ بیگم میجر منیر احمد صاحب شہید تحریر فرماتی ہیں کہ میرے شو ہر محترم میجر منیر احمد صاحب شہید جنوری ۱۹۲۷ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔۱۹۵۰ء میں فوج میں کمیشن حاصل کیا۔۱۹۵۹ء میں میجر کے عہدہ پر فائز ہوئے۔۲۰ ستمبر ۱۹۶۵ء کو وطن عزیز کی عزت و ناموس کی خاطر جان کی بازی لگا کر اپنے مالک حقیقی کے حضور سرخرو ہو کر جا پہنچے اور شہادت کا بلند مرتبہ حاصل کیا اور ربوہ کی مقدس سرزمین میں خاص ” قطعہ شہیداں میں دفن ہونے کی سعادت حاصل کی۔آپ مزید کھتی ہیں کہ شہید کی زندگی اطاعت وخدمت والدین کا ایک جیتا جاگتا نمونہ تھی۔اور خدمت والدین کو اپنی زندگی کا اہم فریضہ سمجھتے تھے اور فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفُّ (بنی اسرائیل:۲۴) کی عملی تفسیر تھے۔کوئی اپنی مرضی یا خیالات کے خواہ کتنے ہی خلاف کیوں نہ ہو، والدین کی خواہش اور رضا کو مقدم رکھتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ایک حد درجہ اطاعت و خدمت گزار بیٹے کی جدائی بوڑھے والدین پر بہت شاق گزری ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ امر باعث مسرت ہے کہ والدین کے دل سے نکلی ہوئی دعائیں ان کے درجات کو ہمیشہ بلند کرتی رہیں گی۔۱۹۵۵ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خاص توجہ، دعا اور منشاء سے میرا رشتہ شہید مرحوم ومغفور سے طے پایا اور ۱۹۵۶ء میں رخصتا نہ ہوا۔میں اس نو سالہ رفاقت کی زندگی پر جب نگاہ دوڑاتی ہوں تو مجھے کوئی ایسا موقع یا ایسا لمح نظر نہیں آتا جس کے متعلق میں کہہ سکوں کہ شہید کی طرف سے مجھے کسی قسم کی پہنی یا جذباتی تکلیف پہنچی ہو۔کبھی غصہ کا اظہار نہ کیا۔کبھی ماتھے پر بل نہ آیا۔ہنستے ہوئے گھر سے نکلے