تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 104
تاریخ احمدیت۔جلد 23 104 سال 1965ء سکتا ہے کہ جس قسم کا سلوک احمدیوں سے ہوتا رہا ہے، اُس سلوک کے ہوتے ہوئے فوج یا فضائیہ میں خدمات سرانجام دینے والے احمدیوں سے وفاداری یا جان شاری کی توقع کی جاسکتی ہے؟ یہ سوال سن کر جناب اصغر خان صاحب نے جنگ ستمبر ۱۹۶۵ء کا ایک حقیقی واقعہ ذاتی تجربہ بیان کر کے اس نہایت ہی چھنے والے سوال کا جواب دیا۔ائیر مارشل (ر) اصغر خان نے بتایا کہ جنگ کے دوران دشمن کی فضائی برتری نے ہمارا ریڈار سسٹم منجمد (جام) کر دیا تھا تو اس نازک صورتحال سے نمٹنے کا صرف ایک ہی طریق تھا کہ جس بھارتی ہوائی اڈہ امرتسر سے دشمن کے جہاز اڑ کر پاکستان پر حملہ آور ہورہے ہیں اُس کو تباہ کر دیا جائے۔اس واضح اور معین مقصد کے لئے ، جناب اصغر خان نے بتایا کہ پاک فضائیہ کے ہوا بازوں کو ایک جگہ طلب (اکٹھا) کیا گیا اور جنگ کی نازک صورتحال سے آگاہ کر کے سب پائلٹوں سے کہا گیا کہ اس قومی دفاعی مقصد کے حصول کے لئے جان کی بازی لگا کر دشمن کا ہوائی اڈہ تباہ کرنا ضروری ہے۔لہذا ہوا باز از خود، رضا کارانہ طور پر اس ناگزیر مشن کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔جناب اصغر خان نے ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے اجلاس عام میں اراکین کو یہ بتایا کہ سب سے پہلے جس پائلٹ نے اپنے آپ کو رضا کا رنہ طور پر پیش کیا وہ پائلٹ احمدی قادیانی تھا۔جی ہاں ! یہ وہی ۳۶ سالہ اسکوارڈن لیڈر خلیفہ منیر الدین احمد تھے جن کا ذکر صاحب مضمون نے اخبار جنگ میں کیا اور جن کو شہادت کا رتبہ پانے پر ستارہ جرات عطا کیا گیا۔جناب زاہد ملک صاحب سینئر صحافی ایڈیٹر "حرمت نے امریکہ میں جناب ایم ایم احمد صاحب سابق مشیر صدر پاکستان و نائب صدر ورلڈ بنک کا انٹرویو کیا۔اس میں مکرم ایم ایم اے صاحب نے ۱۹۶۵ء کی جنگ کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر پاکستان جنرل محمد ایوب کی ایک فیصلہ کن رائے مکرم منیر الدین احمد صاحب کے بارے میں بیان فرمائی جو یہ ہے:۔اگر کوئی چیخ چیخ کر سو دفعہ کہے کہ یہ جو احمدی ہیں یہ ملک کے خلاف ہیں تو میں اس پر ایک سیکنڈ کے لئے بھی یقین نہیں کروں گا۔کیونکہ ۱۹۶۵ء کی جنگ کے دوران میں نے ایک بہت ہی خطرناک مشن پر بھیجنے کے لئے دس آدمیوں کو بلایا اور کہا کہ جس مشن پر آپ کو بھیجا جا رہا ہے وہ اتنا خطرناک ہے کہ اس میں زندہ بیچ کر واپس آنے کا امکان صرف ۱۰ فیصد ہے جبکہ ۹۰ فیصد امکان یہی ہے کہ وہ واپس نہیں آئیں گے تو پہلا آدمی جس نے اثبات میں فور کہا تھا اٹھایا وہ احمدی تھا۔میں نے پوچھا اس کا نام؟ تو کہا! اس کا نام پائلٹ منیب تھا“۔