تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 102
تاریخ احمدیت۔جلد 23 102 سال 1965ء نشانے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ریڈارٹیشن کے قریب پہنچ کر ایک گولہ منیر کے سیبر کو لگا۔انہوں نے جلدی سے ونگ کمانڈر شمیم کو پکارا مجھے گولہ لگ گیا ہے اور پھر ان کا ریڈیو خاموش ہو گیا۔شمیم نے جو اس مہم کی قیادت کر رہے تھے دوبارہ ان سے رابطہ پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہ ملا۔فضا میں چاروں طرف دیکھا لیکن منیر کا کہیں نشان نہ تھا۔ایک عظیم ہوا باز شہید ہو چکا تھا۔یہ ۳۶ سالہ جیالا ہوا باز قادیان ضلع گورداسپور میں پیدا ہوا تھا اس کی ہر دلعزیز اور ہنس مکھ شخصیت ساری فضائیہ میں مشہور تھی۔منیر ہر وقت لطیفہ گوئی کرتے تھے۔ماہر نشانچی تھے اور تھوڑاتھوڑا مسکراتے تھے۔ان کے لئے زندگی پرواز سے عبارت تھی چنانچہ انہوں نے کبھی ترقی کی خواہش نہ کی۔کیونکہ اس طرح ان کی ڈیوٹی زمین پر لگ جاتی۔انہوں نے اس جنگ میں پہلا مشن چھمب میں پورا کیا۔جہاں ۴ ستمبر کو دشمن کے کئی ٹینک تباہ کئے اور اس کے بعد وہ استمبر کو اپنی شہادت کے روز تک روزانہ فضائی حملوں میں شریک ہوتے رہے۔ابتداء میں انہیں یہ حسرت رہی کہ فضاء میں دشمن سے روبرو مقابلہ نہیں ہوا۔یہ حسرت • استمبر کو پوری ہوئی جب انہوں نے فیروز پور سے ۲۰ میل جنوب مشرق میں بھارت کے ایک ناٹ کو مار گرایا۔شہادت کے بعد سکواڈرن لیڈر منیر الدین احمد کو ستارہ جرات کا اعزاز دیا۔جناب خالد محمود صاحب نے اپنی کتاب ”رن کچھ سے چونڈہ تک“ کے صفحہ ۱۹۳ تا ۱۹۶ میں شہید پاکستان خلیفہ منیر الدین کا تذکرہ درج ذیل الفاظ میں کیا ہے:۔۔استمبر کو سکواڈرن لیڈر منیر الدین نے کھیم کرن سیکٹر میں دشمن کا ایک ناٹ طیارہ مار گرایا۔اسی دن امرتسر میں دشمن کے طاقتور ریڈار کو تباہ کرنے کے لئے ۱۲ سیبر طیاروں اور ۲ سٹار فائٹرز کا ایک مشن بھیجا گیا۔یہ ریڈارسٹیشن شہری آبادی کے بیچوں بیچ واقع تھا۔اور کمال ہوشیاری کے ساتھ چھپایا گیا تھا۔اس کی حفاظت کے لئے بھی زبر دست انتظامات کئے گئے تھے۔ان سب رکاوٹوں کے باوجود پاکستانی ہوا باز اس ریڈار سٹیشن کو خاموش کر آئے۔اسی دن سیالکوٹ سیکٹر میں زمینی فوج کو مدددی گئی لیکن صرف ۵ ٹینک اور ۱۰ گاڑیاں تباہ کی جاسکیں۔البتہ گدرو سیکٹر میں دشمن کی ۱۵ گاڑیاں اور ۴ ریلوے ویگن تباہ کئے گئے۔مصنف کتاب نے آگے چل کر صفحہ ۲۱۴ پر شہید کی تصویر دیتے ہوئے لکھا:۔ہنس مکھ سکواڈرن لیڈر منیر کی جان ہوا بازی میں تھی۔انہوں نے سب سے پہلے ہ ستمبر کو چھمب