تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 96
تاریخ احمدیت۔جلد 23 96 سال 1965ء نے بریگیڈئیر شامی شہید کے ساتھ بطور سٹاف کیپٹن کام کیا رن کچھ کے معرکہ میں آپ کے ذمہ ایک اہم ڈیوٹی تھی جس کو بڑی تن دہی اور بہادری سے پورا کیا جب ہندوستان نے پاکستان کی سرحدوں پر حملہ کر دیا تو ان کی توپ خانہ رجمنٹ کو قصور کے دفاع کے لئے بھیجا گیا۔دشمن نے بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کی ایک آہنی دیوار کھڑی کر دی تھی لیکن ان جاں نثاروں کے قدموں کو روکا نہیں جا سکتا تھا۔وہ گولوں کی بارش سے فولادی دیواروں کو پاش پاش کرتے دشمن کے پر نچے اڑاتے اور اسے کیفر کردار تک پہنچاتے موت سے کھیلتے بڑھتے چلے گئے۔۸ ستمبر کو دشمن کو اپنے علاقے سے نکال کر کھیم کرن فتح کر لیا۔اس روز وہ دشمن سے برسر پر کار تھے اور اپنے جوانوں کو اسلحہ سے لیس کر رہے تھے اور شاباش کی بلند آواز سے اپنے جوانوں کی ہمت بڑھارہے تھے کہ اچانک دشمن کے طیارے نے گولیاں برسانی شروع کر دیں ایک گولی آپ کے سینے میں پیوست ہوگئی۔اور وہ شہداء کی صف میں شامل ہو گئے۔شاید اس محاذ پر ان کی منزل کھیم کرن تھی۔اس کے بعد اس نے اپنی اصل منزل کی طرف رخت سفر باندھ لیا۔شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن شہادت سے چند روز قبل خط میں انہوں نے اپنے والد محترم کو لکھا کہ مجھے فخر ہے کہ میں فرض تندہی سے پورا کر رہا ہوں آپ کسی قسم کا فکر نہ کریں موت کا ایک دن معین ہے۔اگر وہ مجھے آنی ہے تو وہ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے بھی آجائے گی۔فکر نہ کریں۔ہاں اگر میں مقررہ تاریخوں پر نہ بھی آسکوں تو بہن کی رخصتی ضرور کر دیں۔اس کے بعد پھر ان کی شہادت کی تار موصول ہوئی جس پر ان کے ماں باپ کا تاثر یہ تھا کہ اگر لخت جگر کی قربانی سے قوم کی کروڑوں ماؤں، بہنوں اور وطن کی عزت بچ گئی ہے تو یہ ہمارے لئے باعث اطمینان وصد افتخار ہے۔خدا اس کے درجات بلند کرے۔کیپٹن نذیر شہید کی بیوہ کو رجمنٹ کے کمانڈر نے یہ خط لکھا کہ آپ کے بہادر شوہر نے بے مثال شجاعت اور اعلیٰ احساس فرض کا ثبوت پیش کرتے ہوئے شاندار قربانی پیش کی ہے ہمیں اس پر فخر ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کے لئے صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین ان کے دو بہت ہی پیارے لڑکے نوید نذیر اور ہمایوں نذیر ہیں جن کی عمر بالترتیب چھ سال اور ڈیڑھ سال ہے۔نوید نذیر کے الفاظ ہیں کہ میں ڈیڈی کی طرح بہادر کیپٹن بنوں گا “۔