تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 95 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 95

تاریخ احمدیت۔جلد 23 95 سال 1965ء رہتیں۔انہی دنوں میں انہوں نے کسی کے بتانے پر حضرت خلیفہ اول کا نسخہ جب اٹھراء استعمال کیا جس کے بعد ان کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔عزیزم نذیر احمد ہمارے آبائی گاؤں چک ۸۲ جنوبی ضلع سرگودھا میں ۱۹۳۲ء میں پیدا ہوئے۔ا شروع ہی سے خوش شکل اور صحت مند تھے۔جب چھوٹے ہی تھے تو ان کی والدہ انہیں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں لے کر گئیں۔حضور انور نے ان کے سر پر دست مبارک پھیرا اور دعا فرمائی۔بچپن سے ہی آپ بے حد ذہین ، خوش خلق اور شریف تھے۔خاندان کے ہر فرد کے ساتھ انہیں پیار اور ہمدردی تھی میری بیوی جو کہ محترم بھائی محمود احمد صاحب ودود میڈیکل سروس سرگودھا کی صاحبزادی ہیں۔ان کے ساتھ انہیں خصوصیت سے انس اور خلوص تھا اس کا اظہار وہ اکثر کیا کرتے تھے اور اپنے ہر کام میں ان سے مشورہ لیتے تھے اب جبکہ یہ خیال آتا ہے کہ ہماری ہر تکلیف پر بے قرار ہو جانے والا وجود آج ہم میں نہیں ہے تو دل کو ٹھیس سی لگتی ہے مگر پھر بھی یہ بات ہمارے زخمی دلوں پر مرہم لگاتی ہے کہ وہ ملک وقوم کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔اس لئے ان کا رتبہ اعلیٰ اور بلند ہے۔جب وہ آخری مرتبہ اپنی والدہ صاحبہ سے مل کر جانے والے تھے تو والدہ نے فکر کا اظہار کیا۔اس پر انہوں نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اگر میں آپ کے پاس بیمار ہو کر وفات پا جاؤں تو آپ کیا کرسکیں گے کیا اس سے بہتر یہ بات نہیں کہ میں ملک کی حفاظت کرتا ہوا مارا جاؤں۔نذیر احمد صاحب نے ۱۹۵۲ء میں بی اے کی ڈگری حاصل کی اور ۱۹۵۳ء میں انہیں فوج میں کمیشن ملا۔۱۹۵۹ء میں ان کی شادی ان کے حقیقی چا برادرم چوہدری حاتم علی صاحب ڈویژنل اکاؤنٹنٹ انہار کی بیٹی سے ہوئی۔اب ان کے دو بیٹے ہیں جن کی عمریں علی الترتیب ۵ سال اور دس ماہ ہیں۔69 روز نامہ مشرق“ نے ۲ دسمبر ۱۹۶۵ء کو اپنے نامہ نگار رضا جعفری کے قلم سے بیگم نذیر شہید کا ایک انٹرویو بھی شائع کیا۔اخبار نے انٹرویو کے ساتھ شہید نذیر اور ان کے صاحبزادوں نوید نذیر اور ہمایوں نذیر کی تصویر بھی زیب قرطاس کی۔روز نامہ امروز ۲ ستمبر ۱۹۶۶ء رقمطراز ہے:۔کیپٹن نذیر احمد صاحب شہید چک ۸۲ جنوبی ضلع سرگودھا میں ۱۹۳۲ء میں پیدا ہوئے۔بی۔اے کرنے کے بعد ۱۹۵۲ء میں بچپن کی خواہش کی تکمیل کے لئے پاک فوج میں کمیشن لیا۔آپ