تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 94 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 94

تاریخ احمدیت۔جلد 23 94 سال 1965ء گے ، یہ علی ملک کے وجدانی شعور کا نتیجہ تھا جس نے ہمیں خطرے سے بچالیا۔66 ان احمدی جرنیلوں کی جرات جو جوانمردی اور ان کے بارے میں غیر جانبدار مبصرین کی آراء کے بیان کے بعد ان احمدی سپوتوں کی جاشاری کا دلگد از تذکرہ ضبط تحریر میں لایا جاتا ہے جنہوں نے جان جیسی قیمتی متاع وطن کی عزت و حفاظت کے لئے قربان کر کے ہمیشہ کی زندگی پالی۔کیپٹن نذیر احمد صاحب شهید آپ چک نمبر ۸۲ جنوبی ضلع سرگودھا کے رہنے والے تھے۔مکرم ناصر احمد صاحب باجوہ سابق صدر محلہ دارا نیمن شرقی ربوہ کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔آپ ۸ ستمبر ۱۹۶۵ء کو کھیم کرن کے محاذ پر شہید ہوئے۔اور قصور میں امانتاً دفن کئے گئے۔۱۸ فروری ۱۹۶۶ ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے 68 نماز جمعہ کے بعد ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ قطعہ شہداء میں سپردخاک کر دیئے گئے۔چوہدری محمد حسین صاحب باجوہ اسٹیشن ماسٹر سکھیکی ضلع گوجرانوالہ تحریر فرماتے ہیں:۔”میرے بھتیجے کیپٹن چوہدری نذیر احمد صاحب ۸ ستمبر کو کھیم کرن کے محاذ پر وطن عزیز کا دفاع کرتے ہوئے شہادت کے رتبہ پر فائز ہوئے۔سات ستمبر کو بھارتی افواج نے قصور پر تین اطراف سے سخت حملہ کیا تھا۔جسے ہماری فوج کے شیر دل مجاہدوں نے نہ صرف پسپا کر دیا بلکہ کھیم کرن کو فتح بھی کر لیا۔انہی بہادروں میں عزیز کیپٹن نذیر احمد صاحب بھی تھے۔جو ۸ ستمبر کو زخمی ہوئے اور اسی روز شہادت کا جام نوش کیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کھیم کرن کے فاتح کی حیثیت سے عزیز نذیر احمد کا نام ہمیشہ زندہ جاوید رہے گا۔عزیز نذیر احمد کے دادا اور راقم الحروف کے والد چوہدری نتھو خاں صاحب بہت مخلص احمدی ( صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) تھے۔آپ جب احمدی ہوئے تو شروع شروع میں آپ کی بہت مخالفت کی گئی لیکن آپ نے ہر تکلیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔جلدی ہی آپ کے حسن اخلاق اور پاکبازی کی وجہ سے گاؤں کے تمام لوگ آپ کے گرویدہ ہو گئے اور آج تک اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اعلیٰ اخلاق میں احمدی سب سے بڑھ کر ہیں۔آپ کی اولا دچار بیٹوں اور دو بیٹیوں پر مشتمل ہے۔نذیر احمد آپ کے سب سے بڑے بیٹے چوہدری امام الدین صاحب کے فرزند تھے۔نذیر احمد سے پہلے بھائی کے تین بیٹے بچپن میں فوت ہو گئے جس کی وجہ سے ہماری بھاوج بہت غمگین