تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 93 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 93

تاریخ احمدیت۔جلد 23 93 سال 1965ء 64 کمانڈر اور کئی جوان شہید ہوئے۔بعد میں جنرل ٹکا خان کو مشرقی پاکستان میں گورنر اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنا کر بھیجا گیا۔۲۵ مارچ کے ملٹری ایکشن میں ان کا کردار بھی منظر عام پر آنا چاہیئے۔ے۔روز نامہ امروز“ نے آپ کو ہلال جرأت کا اعزاز ملنے کا تذکرہ یوں کیا: فورس کمانڈر بریگیڈیئر عبدالعلی ملک نے چونڈہ میں دشمن کی اسلحہ اور افرادی طاقت میں کہیں زیادہ فوج کو نا پاک ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔دشمن نے چونڈہ پر قبضے کے لئے ہر طرح کے حربے استعمال کئے بے تحاشہ گولہ باری اور بمباری کی اور ہر طرف سے یلغار کر کے قبضہ جمانے کی کوشش کی لیکن فرض شناس اور پر عزم بریگیڈیئر عبدالعلی ملک کی قیادت میں پاکستانی جانبازوں نے دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔دشمن نے مسلسل کئی روز تک اندھا دھند گولہ باری کی اور ہر طرف سے زور ڈالا جو کسی بھی فوج کی ہمت شکنی کے لئے کافی تھا۔لیکن بریگیڈئیر عبدالعلی ملک کی دلاوری، ہمت اور سوجھ بوجھ نے دشمن کو کاری ضر میں لگائیں۔دشمن کو سخت نقصان اٹھا کر پسپا ہونا پڑا۔بریگیڈئیر عبدالعلی ملک کو ان کی عظیم خدمات کے صلے میں ہلال جرات کا اعزاز دیا گیا۔“ محترم لیفٹینٹ جنرل گل حسن خاں کا چشم دید بیان ہے:۔66 65 میں یہاں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اگر ۱۲ ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل اختر حسین ملک کا اس موقع پر ذکر نہ کیا جائے تو بات ادھوری رہ جائے گی۔جبرالٹر فورس کی تربیت اور مہم کا آغاز کرنے کے سلسلے میں ان کا تعاون نہایت سود مند تھا۔انہوں نے ہی گرینڈ سلیم آپریشن کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ابتدائی مرحلے میں موصوف نے جس طرح اس کی کمان کی تھی، وہ قابل ستائش تھی۔جنرل ملک پرکشش شخصیت کے انسان تھے۔ان کی صلاحیتیں خدا داد تھیں۔نوجوان افسروں اور جوانوں کے خیالات پر ان کی گرفت خاصی نمایاں تھی۔موصوف اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل اور ذمہ دار سپاہی تھے۔“ پھر جنرل عبدالعلی ملک کی پیشہ وارانہ مہارت اور ذہانت کا ذکر کرتے ہوئے جنرل گل حسن نے لکھا کہ:۔یہ کریڈٹ بریگیڈئیر عبدالعلی ملک کو ہی جاتا ہے کہ اس حقیقت کے باوجود کہ اس کی کچھ فوج جسٹر کی طرف روانہ ہوگئی تھی، وہ اندھی جلد بازی سے آگے نہ بڑھے۔میں قاری کو بتانا چاہوں گا کہ یہ سب کچھ تاریکی کے دوران ہوا جب انتشار کی کیفیت بے طرح بڑھ جاتی ہے۔جیسا کہ ہم جلد دیکھیں