تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 92
تاریخ احمدیت۔جلد 23 92 سال 1965ء روڈ پر آنا تھا۔اس کو روکنے کا سہرا ۲۴ بر یگیڈ گروپ اور اس کے کمانڈر بریگیڈیئر (بعد میں لیفٹیننٹ جنرل ) عبدالعلی ملک ہلال جرات کے سر ہے۔پاکستان کا ۶ آرمڈ ڈویژن دوروز بعد میدان جنگ میں پہنچا۔اگر ۲۴ بر یگیڈ یہ حملہ نہ روکتا تو بلا مبالغہ انڈین آرمی 9 ستمبر کی شام تک جی ٹی روڈ پر پہنچ جاتی اور اس کا ایک کالم وزیر آباد اور دوسرا شاہدرہ بغیر کسی روک ٹوک کے اپنے اپنے ہدف تک پہنچ جاتا اور پھر شاید اس خطے کی تاریخ مختلف ہوتی۔میں ۶ آرمڈ ڈویژن اور اس کے کمانڈر میجر جنرل ابرار حسین ہلال جرات کی کارکردگی اور کردار کی تخفیف نہیں کرنا چاہتا۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ ۸، ۹ ستمبر کو بھارتی افواج کے حملے کو ۲۴ بریگیڈ نے تنہا روکا۔(ب) بریگیڈئیر عبدالعلی ملک کے شاندار کردار کو جان بوجھ کر پس منظر میں ڈال دیا گیا۔ان کے بڑے بھائی میجر جنرل اختر حسین ملک کو عین اس وقت چھمب میں کمانڈ سے ہٹایا گیا جب وہ اکھنور پر قبضہ کرنے والے تھے۔ان کی جگہ کمان جنرل یحیی خان کے سپر د کر دی گئی۔ایوب خان یہ سمجھتے تھے کہ اگر اکھنور کی فتح جنرل اختر ملک کے حصے میں آئی تو وہ بیٹی خان کو پاکستان آرمی کا کمانڈر انچیف نہیں بناسکیں گے۔وہ بیٹی خان کو فاتح اکھنور کے طور پر پیش کرنا چاہتے تھے۔یہ الگ بات ہے کہ جنرل یحی اکھنور پر قبضہ نہ کر سکا اور اسی دوران بھارت نے لاہور پر حملہ کر دیا اور چھمب سے کافی تعداد میں توپ خانہ اور فوج کو واپس بلانا پڑا۔اگر وزیر خزانہ شعیب نے لڑائی شروع ہونے سے پہلے دو مزید ڈویژنوں کے لئے رقم فراہم کر دی ہوتی تو پھر یحیی خان کی کمانڈ میں بھی اکھنور پر قبضہ ہو جاتا اور بھارت کا لا ہور کے محاذ پر مقابلہ بھی ہوسکتا تھا۔( ج ) جنرل ٹکا خان کا سیالکوٹ کے محاذ پر حصہ صفر کے برابر تھا لیکن انہیں چونڈے کا ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔یہی حالت رن کچھ میں بھی ہوئی۔وہاں بھارتی فوجوں کو بھگانے کا کام بر یگیڈ ئیر (بعد میں میجر جنرل افتخار جنجوعہ شہید نے کیا اور جنرل ٹکا خان نے ان کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے کورٹ مارشل تک کی دھمکی دے دی تھی لیکن وہاں بھی جنرل ٹکا خان کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا اور اصل ہیروکو پس منظر میں ڈال دیا گیا۔کرنل مہدی اس بات کے گواہ ہیں کہ جب جنرل ٹکا خان نے سیالکوٹ میں ۸ ستمبر کی دو پہر کے بعد نمبر ۱۵ ڈویژن کی کمان سنبھالی اس کے بعد سیالکوٹ کے محاذ پر بھارتی فوج کا چھوٹا سا حملہ بھی نہ ہوا اس کے برعکس ٹکا خان کے حکم پر سیالکوٹ شہر کے شمال میں ایک چھوٹے سے ٹیلے پر جس پر بھارتی فوج قابض ہو چکی تھی ایک حملہ کیا گیا جو بری طرح ناکام ہوا اور ایک پاکستانی کمپنی