تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 91
تاریخ احمدیت۔جلد 23 91 سال 1965ء ہے۔سترہ روز لڑائی کے درمیان ۱۵ ڈویژن نے دو بار اپنا ہیڈ کوارٹر پیچھے ہٹایا اور جس وقت لڑائی ختم ہوئی اس وقت یہ ہیڈ کوارٹر اپنے مقام سے تقریباً تین میل پیچھے وزیر آباد روڈ پر آچکا تھا۔ویسے بھی جنگ بند ہونے سے کئی روز پہلے جنرل ٹکا خان بیمار ہو کر صاحب فراش ہو چکے تھے۔اور جسمانی طور پر کوئی نمایاں کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔البتہ جنرل ٹکا خان کی کمان کے دور میں سیالکوٹ چھاؤنی کے شمال میں ایک چھوٹے سے مقام پر جس پر بھارتی فوج سے ستمبر کو ہی قابض ہو چکی تھی ایک جوابی حملے کا منصوبہ بنایا گیا۔اس کے لئے بڑی تیاری کی گئی اور جنرل ٹکا خان اپنی بساط کے مطابق اس منصوبے کے خالق تھے۔اصل مقصد یہ تھا کہ اس مقام پر دوبارہ قبضہ کر کے اسے ایک فوجی کارنامے کے طور پر پیش کیا جائے۔کیونکہ ان کی ذمہ داری کے علاقے میں اور کوئی فوجی سرگرمی نہیں ہو رہی تھی۔بدقسمتی سے یہ حملہ بری طرح ناکام ہوا۔میجر رضوی ( جو بلوچ رجمنٹ کی ایک کمپنی کو کمان کر رہے تھے ) خود تو ہدف پر پہنچ گئے لیکن جنرل ٹکا خاں کی منصوبہ بندی اس قدرنا کارہ اور بریک تھی کہ حملے کرنے والی فوج کا کوئی اور حصہ وہاں تک نہ پہنچ سکا اور میجر رضوی اپنے بہت سے ساتھیوں کے ساتھ شہید ہو گئے۔چنانچہ اس مقام پر بھارتی قبضہ بدستور قائم رہا۔سیتھی جنرل ٹکا خان کی کارکردگی !۔۶۔اخبار نوائے وقت میں ایک ریٹائرڈ افسر نے ایک مضمون تحریر کیا جن کے نام کا اخبار نے اخفاء کیا تھا۔مضمون نگار ۶۵ء کی پاک بھارت جنگ۔۔۔چند واقعات کے زیر عنوان لکھتے ہیں:۔نوائے وقت ۱۸ فروری میں ریٹائرڈ کرنل مہدی صاحب کا مضمون زیر عنوان Facts, Fibs and Fictions of The Tragedy of 1971 War And its Forerunner سے گزرا۔مضمون نگار نے جو انکشافات کئے ہیں وہ اگر چہ نئے نہیں لیکن پہلی بار منظر عام پر لائے گئے ہیں۔چونکہ پاک فوج کے رکن کی حیثیت میں خود بھی ستمبر ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران میں سیالکوٹ کے محاذ پر موجود تھا۔اس لئے مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی تامل نہیں کہ ریٹائرڈ کرنل مہدی صاحب نے سیالکوٹ کے محاذ کا جو نقشہ پیش کیا ہے وہ درست ہے اس سلسلے میں چند اور واقعات کا ذکر بے جانہ ہوگا۔(۱) ہندوستان کا مین اٹیک“ جو ۸ اور ۹ ستمبر کی درمیانی شب کو چارواہ، چونڈہ کے علاقے میں ایک آرمرڈ اور دو انفنٹری ڈویژنوں سے کیا گیا تھا اور جس کا مقصد پسرور کے راستے گوجرانوالہ جی ٹی