تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 90 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 90

تاریخ احمدیت۔جلد 23 90 سال 1965ء عبدالعلی ملک ہی اس لڑائی کے اصل ہیرو تھے۔بھارتی منصوبے کو خاک میں ملانے میں ان کی جس قدر تحسین کی جائے کم ہوگی۔یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ اول تو ان کے کردار کو چند مصلحتوں کی وجہ سے جان بوجھ کر گھٹا کر پیش کیا گیا اور بعد میں جب ٹکا خان بھٹو کے دور حکومت میں چیف آف آرمی سٹاف بنے ، جنرل عبدالعلی ملک کو ۳۰ سال کی سروس پوری ہوتے ہی ریٹائر کر دیا۔حالانکہ عمر کے لحاظ سے ابھی وہ کئی سال تک فوج میں خدمت انجام دے سکتے تھے۔لیکن چونکہ اپنی ذہانت اور اعلیٰ کردار کی بدولت وہ ٹکا خاں کو ان کے منہ پر کھری کھری سنا دیا کرتے تھے لہذا فوج کو ایک نہایت قابل افسر سے محروم ہونا پڑا۔اس کے برعکس نکا خان کے دور میں کئی ایسے افسر نوکریاں کرتے رہے جو اپنی میعاد ملازمت پوری کر چکے تھے۔بہر کیف ۶۵ ء کی لڑائی میں ۸ ستمبر کو دوپہر کے بعد جنرل ٹکا خان نے ۱۵ ڈویژن کی کمان سنبھالی۔اس وقت سارے محاذ پر پوزیشن یہ تھی کہ بھارت کا بڑا حملہ چارواہ کے علاقے میں ہو چکا تھا۔اور ۲۴ بر یگیڈ اسے کامیابی سے روک رہا تھا۔نارووال اور سیالکوٹ چھاؤنی پر بھارتی حملے بڑی معمولی نوعیت کے تھے اور اپنا اصل مقصد حاصل کر چکے تھے۔جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔جنرل ٹکا خان کے پاس انفنٹری کی صرف چار پلٹنیں اور پرانے قسم کے ٹینکوں کی ایک رجمنٹ تھی۔لیکن چونکہ اس سیکٹر میں سے ستمبر کی رات کے بعد کوئی حملہ نہیں ہوا اور لڑائی کے ختم ہونے تک یہ پوزیشن برقرار رہی۔جنرل ٹکا خان اپنی فوجی صلاحیتوں کے کوئی جو ہر نہ دکھا سکے۔(صاحب تحریر انہی دنوں شائع ہونے والے ایک مضمون کا تعاقب کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں ) جہاں تک مضمون نگار کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ جنرل ٹکا خان نے سیالکوٹ شہر کو خالی ہونے سے بچالیا۔تو یہ سراسر ان کے دماغ کی اختراع ہے جنرل ٹکا خان کے آنے سے پہلے ہی زیادہ تر شہر بھارتی گولہ باری کی وجہ سے خالی پڑا تھا۔اس وقت جنرل ٹکا خان کا کام اپنے محاذ کی دیکھ بھال کرنا تھا نہ کہ شہر کو خالی ہونے سے بچانا۔ویسے بھی ان کے ذرائع اس قدر محدود تھے کہ اگر وہ چاہتے بھی تو شہر کو خالی ہونے سے نہیں روک سکتے تھے۔مضمون نگار نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ جنرل ٹکا خان نے ڈویژن ہیڈ کوارٹر کو پیچھے ہٹانے کا کرنل سٹاف (کرنل غفار مهدی) کا مشورہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔حالانکہ حقیقت اس کے برعکس