تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 88
تاریخ احمدیت۔جلد 23 88 سال 1965ء دنیا کی نظریں اس پر مرکوز رہیں۔ایک طرف وہ بے حد و حساب فوج آہنی ہاتھیوں کا لاؤ لشکر تھا جسے طویل مدت کی تیاری اور منصوبہ بندی کے بعد میدان میں لایا گیا تھا۔اور دوسری طرف مٹھی بھر فوج تھی جس کا جنگی ساز و سامان بھی کم تھا لیکن جو ایک قوم کی آزادی اور وطن کے ناموس کی حفاظت کے لئے لڑ رہی تھی۔اور جس کی وجہ سے غیور قوم کی تاریخ کا روشن ترین باب تحریر ہو چکا تھا۔پاکستانی توپ خانہ نے سات بھارتی طیارے مار گرائے تھے۔دشمن کے دوسو ٹینک اور ہزاروں فوجی گاڑیاں تباہ ہو چکی تھیں۔دشمن کے سینکڑوں سپاہی اور افسر قیدی بنائے گئے تھے اور مرنے والوں کی لاشوں کا کوئی شمار ہی نہ تھا۔اس کے بعد ممتاز غازیوں اور مجاہدوں کا تذکرہ کرنے کے بعد فرماتے ہیں:۔ے ستمبر کو فضا میں طیاروں کی گڑگڑاہٹ سنائی دی۔اور ساتھ ہی توپوں کے دھماکوں سے سرزمین سیالکوٹ لرز اٹھی۔بھارت نے جموں کی طرف سے اپنی ساری فوج کو چونڈہ کے مقام پر لڑائی میں جھونک دیا۔اور چونڈہ مغربی پاکستان سے کٹ گیا۔تمام مواصلاتی ذرائع ختم ہو چکے تھے۔۱۲ ستمبر تک یہی عالم رہا۔اور قصبہ دشمن کے گولوں کی زد میں آچکا تھا۔حفاظتی اقدامات کے تحت شہر خالی ہورہا تھا اور دوسری صبح تک چونڈہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ کا میدان بن گیا۔سیالکوٹ کے کامیاب دفاع پر جن کمانڈروں اور جرنیلوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے ان میں عبدالعلی ملک کا ذکر ہمیشہ زندہ رہے گا۔فوجی ماہرین جنگ کا کہنا ہے کہ اتنی زبر دست گولہ باری میں کسی بھی فوج کے لڑنے کی صلاحیتیں جواب دے سکتی ہیں لیکن بریگیڈئیر عبدالعلی ملک نے کمال جرأت ایمانی سے اپنی فوجوں میں فولادی عزم کے ساتھ قربانی کا جذبہ پیدا کر دیا تھا۔بریگیڈئیر عبدالعلی ملک کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے عہدِ حاضر کے مہلک ترین ہتھیاروں سے مسلح بھارتی فوجوں کے ایک ڈویژن کے حملے کو روکا اور اس ترتیب سے اپنے دستوں کی پوزیشنیں قائم کیں کہ دشمن چند گھنٹوں میں اس وہم میں مبتلا ہو گیا کہ وہ ایک زبر دست فوج کے گھیرے میں آچکا ہے۔دونوں طرف زبر دست گولہ باری جاری تھی۔فضا دھماکوں سے گونج رہی تھی کہ دشمن کے پاؤں اکھڑ گئے۔اس کے چھ سو سپاہی موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے اور دشمن کی بھاگتی ہوئی فوج اپنے ہی سورماؤں کی لاشوں کو روندتی ہوئی چلی گئی۔بریگیڈئیر عبدالعلی ملک نے اس جنگ کا تجزیہ کر کے کہا کہ بھارتی فوج کے ٹینکوں نے بھارتی