تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 304
تاریخ احمدیت۔جلد 22 304 سال 1963ء میں تقاریر کے علاوہ آپ نے با قاعدہ درس قرآن کا سلسلہ شروع کیا جس میں احمدی اور غیر احمدی بڑے ذوق و شوق سے شامل ہوتے تھے۔دوران قیام آپ کی مشہور عیسائی مشنری عورت مسز روت سے کامیاب گفتگو ہوئی۔یہ مشہور پادری مسٹر ایم این ہوز کی بیٹی تھیں۔دوران گفتگو اس نے اپنی اعانت کے لئے کئی عیسائی مشنری بلائے ہوئے تھے۔حاضرین کی کل تعداد میں پینتیس کے قریب تھی۔حضرت مولانا راجیکی صاحب نے ایسے موثر انداز میں تبادلہ خیالات فرمایا کہ مسز روت آبدیدہ ہو گئیں اور کہنے لگیں کہ آج یہ پہلا دن ہے کہ میرے دل میں حضرت محمد صاحب کے تقدس اور پاکیزگی کے متعلق ایک گہرا اثر پیدا ہوا ہے اور میں آئندہ آنحضرت کے متعلق کوئی کلمہ تحقیر یا استخفاف کا استعمال نہ کروں گی۔مسز روت نے مناظرانہ رنگ میں کوئی اعتراض پیش نہ کیا اور نہ اسلام پر کوئی نکتہ چینی کی۔ایک گھنٹہ تک یہ مجلس قائم رہی اور وہ مختلف مسائل کے بارے میں محبت وعقیدت سے استفسار کرتی رہیں۔آپ کے قادیان واپس آنے کے بعد بھی روت صاحبہ ایک عرصہ تک خط و کتابت کرتی رہیں۔یہ روحانی تبدیلی ایک غیر معمولی بات تھی کیونکہ یہ خاتون قبل ازیں اسلام اور آنحضرت کی معاند تھیں اور لکھنو میں علمائے اسلام کو متواتر چیلنج دے رہی تھیں لیکن کوئی غیر احمدی عالم اس کا چیلنج قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا تھا۔150 ۷ ا پریل ۱۹۳۴ء کو حضرت مصلح موعود نے مسجد الفضل لائل پور (فیصل آباد ) کا افتتاح فرمایا۔اس موقعہ پر ایک تبلیغی جلسہ بھی منعقد ہوا۔جس میں اور مقررین کے علاوہ حضرت مولانا کی تقریر حدیث نزول مسیح پر ہوئی۔جس پر حاضرین نے بہت مسرت کا اظہار فرمایا اور غیر احمدی معززین پر بھی اس کا بہت اچھا اثر ہوا۔آپ فرماتے ہیں:۔میں نے جو کچھ بیان کیا تھا یہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے معارف کی خوشہ چینی اور آپ کے فیضان علم میں سے ایک قطرہ تھا۔فالحمد للہ علی ذالک۔۱۹۳۵ء میں آپ مرکزی ہدایت کے ماتحت گیارہ ماہ تک حیدر آباد دکن میں مقیم رہے۔آپ کا قیام سلسلہ کے ایک مخلص بزرگ نواب اکبر یار جنگ صاحب بہا در حج ہائیکورٹ حیدر آباد دکن کے ہاں تھا۔ایک دن انہوں نے ریاست کے وزراء، امراء اور رؤساء کی پُر تکلف ضیافت کی۔مندوبین میں مہاراجہ سرکرشن پرشاد، وزیر اعظم حیدر آبا داور شاہی طبیب جناب مقصود علی صاحب بھی شامل تھے۔اس