تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 84 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 84

تاریخ احمدیت۔جلد 22 84 سال 1963ء ۲۶ ۲۷ جولائی کو بنڈونگ میں انڈونیشیا کی احمد یہ جماعتوں کی شاندار سالانہ کانفرنس منعقد ہوئی۔کانفرنس کا افتتاح بھی آپ نے فرمایا اور روح پرور اختتامی خطاب بھی کیا۔اس کا نفرنس 146 144 145 میں مسٹر ارسلان عبدالغنی صاحب نائب وزیر اعظم و وزیر اطلاعات انڈونیشیا نے بھی شرکت کی اور اپنی تقریر کے دوران صاحبزادہ صاحب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔انقلابی دور میں قریب تھا کہ ہم اسلام کو بھول جاتے اس وقت صرف اور صرف جماعت احمدیہ کا لٹریچر ہماری اسلامیات کے احیاء اور تجدید کے لئے ہمارے کام آیا اور میں نے آپ کا ڈچ ترجمہ قرآن بھی پڑھا ہے۔یہ تاریخی کا نفرنس بنڈونگ کے گلورا ہال میں منعقد ہوئی اور اس میں انتہائی گرانی اور سفر کی شدید صعوبتوں کے باوجود ۶۰ جماعتوں کے دو ہزار نمائندگان نے شرکت فرمائی۔اس موقع پر ۵۲ احباب بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔۲۶ جولائی کی شام کو ایک پرشکوہ ہال میں آپ کے اعزاز میں استقبالیہ کا انتظام تھا۔اس موقعہ پر آپ نے انگریزی میں ہمارے بیرونی مشنز (Our Foreign Missions) کے موضوع پر تقریر فرمائی۔جو غیر احمدی حلقوں میں خاص طور پر بہت مقبول ہوئی۔ریڈیو انڈونیشیا نے اس کو مفصل نشر کیا اور اخبارات نے نمایاں سرخیاں دے کر تقریر کے مضمون اور جماعت احمدیہ کی عیسائیت کے خلاف تبلیغی سرگرمیوں کو خوب سراہا۔بنڈونگ کے مؤقر اخبار "Pikiran Rakjat" نے اپنی ۲۷ جولائی ۱۹۶۳ء کی اشاعت میں لکھا:۔مغربی یورپ اور افریقہ کو مسلمان بنانے کی دلیرانہ کوشش جماعت احمدیہ کے بیرونی مشنوں کے انچارج مرزا مبارک احمد صاحب نے احمدیہ کانگرس کے استقبالیہ میں تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ یورپ، مغربی دنیا میں تبلیغ اسلام کی مساعی کو ایک زبردست چیلنج سمجھتا ہے۔جماعت احمدیہ کی عالمی شخصیت نے بتایا کہ لندن ، زیورچ، ہمبرگ، فرینکفورٹ اور ہیگ میں ہماری مساجد اور ناروے، سویڈن ڈنمارک کی فعال اسلامی جماعتیں اسلام کی ترقی کا نشان ہیں۔ایک ہزار کے قریب امریکن اسلام قبول کر چکے ہیں اور افریقہ میں خصوصیت سے جماعت احمدیہ کی مساعی بار آور ثابت ہوئی ہیں اور اس میں سے بھی خصوصیت سے غانا میں ۱۲ اخبارات، ۴۶ سکول، ۳۴۳ مساجد جماعت احمدیہ کی مساعی کے نتیجہ میں معرض وجود میں آئیں۔روسی ترجمہ قرآن بھی اب جلد اشاعت پذیر ہوگا۔66 148