تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 80 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 80

تاریخ احمدیت۔جلد 22 80 سال 1963ء سے عموماً پر زور اپیل کی گئی کہ وہ محکمہ بحالیات کے اس غیر دانشمندانہ اور غیر منصفانہ فیصلہ پر نظر ثانی کا حکم صادر کر کے ایک پُر امن اور پابند قانون جماعت کے حقوق کا تحفظ کریں۔قرار داد کا مکمل متن اخبار بدر کی ۱۳ جون ۱۹۶۳ء کی اشاعت میں چھاپ دیا گیا اور اس کی نقول وزیر اعظم صاحب ہندوستان کے علاوہ ڈاکٹر رادھا کرشنن صاحب پریذیڈنٹ ہندوستان، ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب وائس پریذیڈنٹ ہندوستان، مہر چند صاحب کھنہ مرکزی وزیر بحالیات اور جناب بخشی غلام محمد صاحب وزیر اعلی کشمیر کی خدمت میں بھی بھجوائی گئیں۔,, وو مرکزی قرارداد کی اشاعت کے بعد جماعت ہائے احمد یہ ہندوستان اور بعض بیرونی ممالک کی جماعتوں نے بھی بھارتی حکومت کو اس فیصلہ پر نظر ثانی اور ہمدردانہ توجہ کے لئے ریزولیوشن بھجوائے۔ہندوستان کے مسلم پریس نے بھی اس نوٹس کے خلاف احتجاجی نوٹ شائع کئے۔چنانچہ روز نامہ ہندوستان (بمبئی) اور روزنامہ ” اجمل، بمبئی نے اپنے ۱۹ اور ۲۱ جون ۱۹۶۳ء کے پرچوں میں صدر انجمن احمد یہ قادیان کی جائیدادوں کا مسئلہ" کے عنوان سے محکمہ بحالیات کے نوٹس پر کڑی تنقید کی اور اس معاملے کا تفصیلی پس منظر تحریر کر کے جناب پنڈت جواہر لال صاحب نہرو اور مرکزی وزیر بحالیات اور دیگر مرکزی افسروں سے درخواست کی کہ وہ مداخلت کر کے نوٹس کو منسوخ کرائیں۔اسی طرح ہفت روزہ روشنی ( سرینگر ) مورخہ ۲۵ جون ۱۹۶۳ء نے مرکزی حکومت کا غیر دانشمندانہ رویہ کے زیر عنوان ایک احتجاجی ادار یہ تحریر کیا۔جس میں احمدیہ جماعت کے عقائد اور پر امن تعلیمات پر روشنی ڈالنے کے بعد ذکر کیا کہ کس طرح ایک غیر ذمہ دار افسر کے غلط فیصلہ کی بناء پر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی کتاب "سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جواب کو ممنوع قرار دیا جس سے ایک بین الاقوامی مذہبی جماعت کے مذہبی جذبات شدید طور پر مجروح ہوئے اور زمین کے طول و عرض سے احتجاجی قرار داد میں حکومت پاکستان کو موصول ہوئیں۔یہاں تک کہ حکومت کو اپنے موقف کی غلطی کا یقین ہوا اور اسے ضبطی کا حکم واپس لینا پڑا۔اخبار روشنی نے مزید لکھا کہ محکمہ بحالیات کا نوٹس بھی کسی افسر نے دیا ہے جو غیر دانشمندانہ اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔اس مذہبی مقدس حلقہ کے ساتھ تمام دنیا کے احمدیوں کے مذہبی جذبات وابستہ ہیں لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اس بین الاقوامی اور پر امن جماعت کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اس نوٹس کو منسوخ کرے اور اقلیتوں کے متعلق اپنی سیکولر پالیسی کا اظہار فرمائے۔185