تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 79 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 79

تاریخ احمدیت۔جلد 22 79 سال 1963ء مقدس احمد یہ حلقہ قادیان سے متعلق محکمہ بحالیات کا غیر منصفانہ نوٹس مقدس احمد یہ حلقہ قادیان کے بعض مکانات کی نیلامی کا معاملہ عرصہ چھ سال سے مرکزی محکمہ بحالیات ( بھارت) سے زیر تصفیہ چلا آ رہا تھا۔مارچ ۱۹۵۸ء میں جماعت کے ایک مرکزی وفد نے جناب پنڈت جواہر لال نہرو وزیر اعظم ہندوستان سے ملاقات کی۔انہوں نے یقین دلایا کہ موجودہ احمدی امیر یا جس میں جماعت احمدیہ کے مقدس پیشوا اور ان کے خلفاء کے مکانات اور مساجد اور مقدس مقامات شامل ہیں اس میں کسی غیر کو دخل اندازی کی اجازت نہیں دی جائے گی بلکہ حسب سابق ہر حال میں یہ احمد یہ جماعت کے پاس ہی رہے گا اور اس میں جو بعض مترو کہ مکانات ہیں ان کی کم از کم ریز رو قیمت صدر انجمن احمدیہ قادیان سے وصول کر کے انجمن کو ان کے مستقل حقوق ملکیت دے دیئے جائیں گے۔وزیر بحالیات جناب مہر چند صاحب کھنہ نے بھی ملاقات کے دوران اپنے محکمہ کے اس موقف کے متعلق پوری یقین دہانی کرائی۔لیکن جب عملی طور پر ایسے مکانات کی ریز رو قیمت لگائی گئی تو وہ ان مکانوں کی خستہ حالت کے مقابل پر بہت زیادہ رکھی گئی اور قادیان میں اس قسم کے دیگر مکانات کی قیمتوں سے جو محکمہ بحالیات نے خود بذریعہ عام نیلامی فروخت کئے۔ڈھائی گنا زیادہ مطالبہ کر دیا گیا جس پر صدرانجمن احمد یہ قادیان کی طرف سے مرکزی وزارت بحالیات کو متعدد مرتبہ محضر نامے بھجوائے گئے نیز توجہ دلائی گئی کہ انجمن کی واگذار شدہ جائیدادیں چونکہ گذشتہ ساڑھے تیرہ سال سے حکومت کے ناجائز قبضہ میں رہی ہیں۔اس لئے ایسی جائیدادوں کی واجبی آمد اور کرایہ کی حساب منہمی بھی صدرانجمن احمدیہ کے ساتھ کی جائے۔لیکن اس طرف تو کوئی توجہ نہ دی گئی۔اس کے مقابل محکمہ مذکورہ کی طرف سے ۸ جون ۱۹۶۳ء کو نوٹس موصول ہوا کہ صدر انجمن احمد یہ ایک ماہ کے اندر اندر سات لاکھ چونسٹھ ہزار سات سو نوے روپے حکومت کو ادا کر دے ورنہ احمد یہ امر یا کے مکانوں کو بذریعہ عام نیلام فروخت کر دیا جائے گا۔اس غیر منصفانہ نوٹس پر دنیا بھر کے احمدیوں میں انتہائی تشویش اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔۱۱ جون ۱۹۶۳ء کو مقامی جماعت احمدیہ قادیان کا مولانا عبدالرحمن صاحب فاضل امیر جماعت احمدیہ قادیان کی زیر صدارت ایک غیر معمولی اجلاس مسجد مبارک میں ہوا جس میں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعہ جناب پنڈت جواہر لال صاحب نہرو وزیر اعظم بھارت سے خصوصاً اور دیگر ارکان حکومت