تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 77
تاریخ احمدیت۔جلد 22 77 سال 1963ء آپ نے مزید توجہ دلائی کہ اس ضمن میں ایسے واقعات بھی درج کئے جائیں جن سے حضور کی مندرجہ ذیل صفات پر بھی روشنی پڑتی ہو۔(۱) تبحر علمی (۲) سخت ذہین اور فہیم ہونا (۳) دل کا حلیم ہونا (۴) خاص قبولیت دعا (۵) انفاس قدسیہ کی بدولت روحانی بیماریوں کا علاج کرنا (۶) اسیروں کی رستگاری کا موجب ہونا (۷) خدمت اسلام کی سچی تڑپ اور اس کے لئے جد و جہد (۸) غیر معمولی یاد داشت (۹) غریب پروری۔احباب جماعت نے اس تحریک پر بہت عمدہ واقعات سپرد قلم کئے جو جامعہ احمدیہ کے علمی وادبی رسالہ "مجلة الجامعه ( جلد نمبر۲) مصلح موعود نمبر میں اشاعت پذیر ہوئے۔کتب مسیح موعود علیہ السلام کے انگریزی تراجم 132 احمدیت کا عالمی اثر ونفوذ جب تیزی سے بڑھنا شروع ہوا تو غیر ممالک کی یونیورسٹیوں سے یہ مطالبات آنے شروع ہوئے کہ بعض طلبہ نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے کے لئے اپنے تحقیقی مقالہ (Thesis) کا مضمون تحریک احمدیت (Ahmadiyya Movement) رکھا ہے۔انہیں بانی جماعت احمدیہ کی کتابوں سے اور آپ کے اپنے الفاظ میں ان کے سوالات سے متعلق مواد مہیا کیا جائے۔اس سال یہ مطالبات لندن، پیرس اور امریکہ سے بھی مرکز میں پہنچے۔ظاہر ہے کہ ایسے مقالے تبھی تیار ہو سکتے تھے کہ اصل کتابیں انگریزی زبان میں مع انڈیکس کے شائع شدہ ہوں اور ریسرچ کرنے والے اُن کا براہ راست مطالعہ کر کے اپنی ضرورت کے مطابق مواد اخذ کر سکیں۔لیکن اب تک صورت حال یہ تھی کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے انقلاب انگیز وسیع لٹریچر میں سے وکالت تبشیر کی طرف سے وسط ۱۹۶۳ء تک صرف درج ذیل چھ کتب کے تراجم شائع ہو سکے تھے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، الوصیت مسیح ہندوستان میں ، چشمہ مسیحی ، ایک غلطی کا ازالہ کشتی نوح ( حصہ تعلیم )۔تجلیات الہیہ، چشمہ معرفت اور سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب“ کے تراجم کی تکمیل ہو چکی تھی۔مگر ان کے چھپنے کی نوبت نہیں آئی تھی۔اسی طرح حقیقۃ الوحی کے صرف پہلے ۶۹ صفحات اور آئینہ کمالات اسلام کا صرف ایک حصہ انگریزی میں منتقل کیا جا سکا تھا۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر نے اس صورتحال کے پیش نظر الفضل