تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 61 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 61

تاریخ احمدیت۔جلد 22 61 سال 1963ء کے علاوہ اپنی ذات میں جارحانہ نوعیت کا حامل ہے اور یہی وہ اسلام ہے جو بیداری سے ہمکنار ہونے والے افریقہ میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلتا جارہا ہے۔چند ماہ بعد مشہور عالم ادارہ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری ریورنڈ ہے۔ٹی۔واٹسن (Rev۔J۔T۔Watson) نے افریقہ کا دورہ کرنے کے بعد کیپ ٹاؤن میں بیان دیا کہ بلاشبہ اسلام نہایت سرعت سے ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔یہ بیان افریقہ کے قریباً تمام اخباروں میں شائع ہوا۔چنانچہ فری ٹاؤن کے اخبار ڈیلی میل (Daily Mail) نے ۸ نومبر ۱۹۶۳ء کی اشاعت میں لکھا:۔کیپ ٹاؤن، ۷ رنومبر بروز جمعرات ) برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری ریورنڈ جے ٹی واٹسن نے آج کیپ ٹاؤن میں اس خیال کا اظہار کیا کہ یہ بات عین ممکن ہے کہ قریب مستقبل میں اسلام افریقہ کے ایک عوامی مذہب کی حیثیت سے عیسائیت کو شکست دے کر اس کی جگہ لے لے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا کی آبادی دس لاکھ نفوس فی ہفتہ کے حساب سے بڑھ رہی ہے لیکن چرچ دنیا کی روحوں کو جیتنے اور انہیں عیسائیت کا گرویدہ بنانے کی جد و جہد میں نا کام ہوتا جارہا ہے۔مسٹر واٹسن دوروز کے لئے کیپ ٹاؤن آئے ہوئے ہیں۔آپ افریقہ میں بائبل سوسائٹیوں کے سیکرٹری کی دس روزہ کانفرنس میں شرکت کے بعد جو کینیا کے مقام لیمور میں منعقد ہوئی تھی انگلستان واپس جاتے ہوئے کیپ ٹاؤن تشریف لائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے افریقہ میں زیادہ عرصہ ٹھہرنے کا موقع نہیں ملا ہے اس لئے میں افریقہ کے نئے آزاد ملکوں میں غیر ملکی پادریوں اور اُن کی کلیسیائی تنظیم کے خلاف مخالفانہ جذبہ سے پورے طور پر آگاہ نہیں ہوں تا ہم موجودہ صورتِ حال فوری توجہ کی محتاج ضرور ہے۔ہمیں چاہیئے کہ ہم مقامی پادریوں کے لئے اپنے دروازے کھول دیں اور اگر ہمارا وہاں سے چلا آنا ہی بہتر ہو تو چلے آئیں۔انہوں نے مزید کہا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام افریقہ میں برابر ترقی کر رہا ہے۔اگر ایک شخص عیسائیت قبول کرتا ہے تو اسلام اس کے مقابلہ میں دو افراد کو اپنا حلقہ بگوش بنالیتا ہے۔ابھی موقع ہے کہ ہم اپنے آپ کو سنبھال لیں۔ہمیں اس موقع سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیئے لیکن اس امر کا قوی امکان موجود ہے کہ ہم اس موقع کو گنوا دیں گے۔نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلام عیسائیت سے بازی لے جائے گا۔113