تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 60
تاریخ احمدیت۔جلد 22 60 سال 1963ء احمدیت نے جلسہ سالانہ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۳ء کے دوسرے اجلاس میں ان سب امتیاز حاصل کرنے والے احباب میں بالترتیب انعامات تقسیم فرمائے جو اہم دینی کتب پر مشتمل تھے۔امتحان میں مندرجہ ذیل چار خواتین کو امتیازی پوزیشن حاصل ہوئی جنہیں زنانہ سٹیج سے انعامات دیئے گئے۔اول: قانتہ شاہدہ صاحبہ جامعہ نصرت ربوه ۸۴/۱۰۰- دوم: سیدہ تنویر صاحبہ ڈیرہ غازی خان ۸۲/۱۰۰۔سوم نمبر : مریم حنا صاحبہ نصرت گرلز ہائی سکول ربوه ۸۱/۱۰۰۔نمبر۲: مودوده طلعت صاحبه حیدر آبادسندھ ۸۱/۱۰۰-O افریقہ میں اسلام کی شاندار پیش قدمی مجاہدین احمدیت افریقہ میں عیسائیت کا جس مومنانہ عزم ، اور جوانمردی اور روحانی واخلاقی قوت سے مقابلہ کر رہے تھے۔اس کا نتیجہ بالآخر یہ ہوا کہ عیسائیت کی بڑھتی ہوئی یلغار رک گئی اور اسلام نے پورے بر اعظم میں نہ صرف اپنے پاؤں مضبوطی سے جما لئے بلکہ پیش قدمی کرنا شروع کر دی۔چنانچہ اس سال کے ابتداء میں بھی امریکن بائبل سوسائٹی کو اعتراف کرنا پڑا کہ افریقہ کے بہت سے علاقوں میں عیسائی مشنری جس رفتار سے افریقنوں کو عیسائی بناتے ہیں مسلم مشنری اس سے دگنی تعداد میں انہیں حلقہ بگوش اسلام بنا لیتے ہیں۔سوسائٹی کے ۱۴۷ ویں سالانہ اجلاس سے معاقبل ایک رپورٹ شائع کی گئی۔جس میں کہا گیا کہ جنوب کی طرف اسلام کی کامیاب یلغار افریقہ میں سوسائٹی (امریکن بائیبل سوسائٹی) کے کام کو اور زیادہ مشکل بنا رہی ہے بہت سے علاقوں میں کم سے کم اندازے کے مطابق مسلم مشنری افریقہ کے مشرکوں کو اس رفتار سے اسلام کا حلقہ بگوش بنا رہے ہیں کہ ہر اُس ایک مشرک کے بالمقابل جسے عیسائیت اپنی طرف کھینچتی ہے وہ دو مشرکوں کو اسلام کی آغوش میں کھینچ لیتے ہیں۔اسی طرح گرا ہمز ٹاؤن کے ایک ٹیچر مسٹراے کے گراہم نے بیان دیا کہ عنقریب اشاعت اسلام کی رفتار اور بھی زیادہ تیز ہو جائے گی نیز بتایا کہ بہت سے مبصرین کی رائے یہ ہے کہ اگر عیسائیت نے خطرہ کا پورے طور پر احساس نہ کیا تو اسلام بآسانی سارے افریقہ کا مذہب بن جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بیسویں صدی کا سب سے اہم اور تعجب خیز امروہ مخصوص اسلام ہے جو حیات نو سے ہمکنار ہونے 111