تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 707 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 707

تاریخ احمدیت۔جلد 22 707 سال 1964ء افریقہ میں اسلام پھیلانے کے لئے کچھ کام مصر سے ہو رہا ہے مگر وہ بہت کم ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ آس پاس کے عرب ممالک اور ایشیا کے مسلم ممالک مل جل کر اس مہم میں سرگرمی سے حصہ لیں خصوصاً پاکستان پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔پاکستان کی طرف سے اب تک جو تبلیغی کام ہورہا ہے وہ یا تو انفرادی قسم کا ہے یا کمزور اداروں کی طرف سے چند مبلغین نہایت محدود کام کر رہے ہیں۔البتہ احمدیوں کا کام منظم بھی ہے اور زیادہ وسیع بھی۔چنانچہ ایک رپورٹ کے مطابق مشرقی افریقہ کی ۱۵ فیصد مسلم آبادی میں دس ہزار احمدی ہیں اور پرتگیزی مشرقی افریقہ کے دس لاکھ مسلمانوں میں خاصی بڑی تعداد احمدیوں کی بیان کی جاتی ہے۔کینیا کے بعض علاقوں میں بھی احمدی مبلغ کام کرتے ہیں نیروبی میں ان کا بڑا تبلیغی مرکز اور کالج ہے اور انگریزی اخبار نکل رہا ہے“۔مغربی بنگال کے ایک جید عالم کا قبول احمدیت 40 کلکتہ کے نواح میں بڑیلہ کی عربی درسگاہ بہت مشہور ہے اس درسگاہ کے ناظم مولا نا عبدالحنان صاحب عبقری فاضل دیو بند تھے آپ کا شمار مغربی بنگال کے صف اول کے علماء میں ہوتا تھا اور اس خطہ میں بہت سے علماء کو آپ کا شاگرد ہونے کا شرف حاصل تھا۔مولا نا کو عیسائیوں سے مباحثات کے دوران کا سر صلیب حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کا بلند پایہ لٹریچر مطالعہ کرنے کا موقعہ ملا۔اور وہ حضور کے گرویدہ ہو گئے۔ستمبر ۱۹۶۴ء کے آخر میں آپ سے مولانا محمد سلیم صاحب فاضل کی ملاقات ہوئی۔مولانا نے واضح لفظوں میں بیان فرمایا کہ میں بیس سال کی تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ حضرت اقدس مرزا غلام احمد واقعی مسیح موعود و مہدی مسعود ہیں۔مولا نا عبدالحنان صاحب نے حلقہ بگوش احمدیت ہونے کا باقاعدہ اعلان ۲۱ را کتوبر ۱۹۶۴ء کو ایک جلسہ عام میں کیا جو مسجد کلکتہ میں منعقد ہوا۔اس موقعہ پر آپ کے دو صاحبزادگان نے بھی قبول احمدیت کا اعلان کیا۔خدمت خلق کا ایک واقعہ اور تنظیم السادات و مومنین کا نفرنس کی قرار داد تشکر ۲۴ دسمبر ۱۹۶۴ کو چنیوٹ سے ۶ میل دور ایک نہایت دردناک حادثہ ہوا۔جس میں سرگودھا کے مشہور وکیل سید غضنفر علی شاہ صاحب بخاری اور ان کی ایک دختر جو حادثہ میں شدید زخمی ہو گئے تھے۔شاہ صاحب اور ان کی صاحبزادی فضل عمر ہسپتال لائے گئے۔اور ہسپتال کے عملہ نے محض اللہ تعالیٰ کی