تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 706 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 706

تاریخ احمدیت۔جلد 22 706 سال 1964ء مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ تھے۔گورنر مشرقی پنجاب نے فرمایا۔”اسلام کا بنیادی کام تو یہی ہے جو 138 آپ کر رہے ہیں“۔جماعت احمدیہ غیروں کی نظر میں ا۔روزنامہ پاکستان ٹائمنز ۱۴ اگست ۱۹۶۴ء میں اخبار کے مشرق وسطی کے نمائندہ خصوصی جناب فرید۔ایس جعفری نے ایک مضمون میں جماعت احمدیہ کی خدمات کا ان الفاظ میں اعتراف کیا:۔احمدی مبلغین کو عام طور پر قابلِ تعجب حد تک اس ملک میں مقبولیت حاصل ہے یہاں تک کہ صدر مملکت مسٹرنگر و ما سے بھی ان کے گہرے دوستانہ تعلقات ہیں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ احمدی مبلغین مملکت نانا کی نئی پود کو نہ ہی اور عام دنیوی علوم کی تعلیم دینے کے ذریعہ حقیقی انسانی خدمات بجالا رہے ہیں اور وہ وہاں کے لوگوں میں کسی قسم کی باہمی تفریق، کشیدگی اور تلخی پیدا نہیں کرتے حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگوں میں باہمی اتحاد و تعاون کیلئے مصروف عمل ہیں۔مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چونکہ احمدی مبلغین کا تبلیغ و تعارف کا طریقہ عیسائی منادوں کی نسبت زیادہ بہتر ہے اس وجہ سے ان کو خوش آمدید کہا جاتا ہے اور ملک بھر میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔مشہوراہل حدیث عالم مولوی محی الدین احمد صاحب کے بیٹے ڈاکٹر معین الدین احمد قریشی (بعد ازاں یہ پاکستان کے نگران وزیر اعظم بھی رہے) نے مشرقی افریقہ کے دورے سے واپسی پر جماعت کی تبلیغی کوششوں کا اعتراف ان الفاظ میں کیا:۔جہاں بھی میں گیا میں نے مرزائی مبلغین کو سر گرم عمل پایا۔قریب وہ تمام لوگ تیز مناظر، مذہبی تنازعات کے سلسلے میں وسیع المعلومات، کتب مقدسہ کے حوالہ جات سے واقف اور تبلیغی نشیب وفراز سے آگاہ نظر آئے۔ساتھ ہی شرمندگی سے اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ کسی نام نہاد اسلامی جماعت کا کوئی نمائندہ وہاں بھولے سے بھی نظر نہیں آتا۔39۔افریقہ میں جماعت احمدیہ کی مساعی ”ماہنامہ سیارہ لاہور کی نظر میں ماہنامہ سیارہ لاہوراکتو بر ۱۹۶۴ء کے شمارہ میں جماعت اسلامی پاکستان کے ایک رہنما جناب نعیم صدیقی صاحب نے افریقن ممالک میں تبلیغی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کی مساعی کا حسب ذیل الفاظ میں اعتراف کیا:۔