تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 702 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 702

تاریخ احمدیت۔جلد 22 702 سال 1964ء سال ہوئے ایک کاپی میں نوٹ کر لی تھی کہ زندگی کا اعتبار نہیں میرے ساتھ ہی نہ رخصت ہو جائے۔اول ایام میں حضرت مسیح موعود کی حیات میں اور پھر حضرت خلیفہ اول کی حیات میں تو زبان سے یہ بات نکل ہی نہ سکتی تھی۔دل ہی گوارا نہ کر سکتا تھا۔پھر حالات بگڑے جو سب پر روشن ہیں کہ یونہی الزام لگتے تھے۔حضرت اماں جان پر اور خود حضرت سیدنا خلیفہ اسیح الثانی پر کہ خلافت کے خواہاں میں غرض کیا کیا اتہام نہیں تراشے گئے۔کیسی کیسی بدگمانیوں کے نتیجہ میں زبان و قلم کے تیر اس قطعی بے گناہ وجود پر نہیں چلائے گئے انہی وجوہ سے میں نہ تو لکھ سکی یہ بات۔اور نہ ہی زبان پر لاسکی۔اب ایسی عمر ہے کہ کسی وقت کا پتہ نہیں کہ کب بلا وا آ جائے تو آج خلافتِ ثانیہ کے ۵۰ سال کے بعد یہ امانت آپ کے سامنے حاضر کرتی ہوں۔جب انجمن کا قیام ہو رہا تھا ان دنوں کا ذکر ہے کہ باہر کوئی میٹنگ انجمن کے ارکان کے انتخاب کی یا مقر رشدہ لوگوں کی قوانین وغیرہ کے متعلق ہو رہی تھی۔کیونکہ انجمن بن رہی تھی یا بن چکی تھی یہ مجھے علم نہیں نہ ٹھیک یاد ہے ) حضرت سید نا بڑے بھائی صاحب باہر سے آکر آپ کو رپورٹ کرتے اور باتیں بتا کر جاتے تھے۔آپ حضرت اماں جان والے صحن میں ٹہل رہے تھے۔جب حضرت سیدنا بھائی صاحب آخری بار کچھ باتیں کر کے باہر چلے گئے تو آپ دارالبرکات کے صحن کی جانب آئے اور وہاں سے حجرہ میں جانے کے دروازہ کی جانب اترنے والی سیڑھی کے پاس آکر کھڑے ہو گئے۔حضرت اماں جان پہلے سے وہاں کھڑی تھیں۔میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیچھے ساتھ ساتھ چلی آئی تھی اور پیچھے کھڑی ہوگئی۔آپ کی پیٹھ کی جانب بالکل قریب اس وقت آپ نے جیسے سیدھے کھڑے تھے اسی طرح بغیر گردن موڑے کلام کیا۔مگر بظاہر حضرت اماں جان سے ہی مخاطب معلوم ہوتے تھے فرمایا:۔کبھی تو ہمارا دل چاہتا ہے کہ محمود کی خلافت کی بابت ان لوگوں کو بتا دیں۔پھر میں سوچتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء اپنے وقت پر خود ہی ظاہر ہو جائے گا“۔اسی ترتیب سے پہلے فقرہ میں ”ہمارا کہا دوسرے میں میں فرمایا اور غیر محسوس سے وقفہ سے یہ دوسرا فقرہ ادا فر مایا۔مجھے قسم ہے اپنے مالک و خالق ازلی و ابدی خدا کی جس کے حضور میں نے بھی اور سب نے حاضر ہونا ہے اور وہی میرا شاہد ہے میرا حاضر و ناظر خدا جس کے پاس اب میرے جانے کا وقت قریب ہے کہ یہ سچ اور بالکل حق ہے کہ ان الفاظ میں ذرا فرق نہیں۔مجھے ایک ایک لفظ ٹھیک