تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 701 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 701

تاریخ احمدیت۔جلد 22 701 سال 1964ء یہ مسجد مذکورۃ الصدر زمین کے قریباً تیسرے حصہ میں بنائی گئی ہے۔دو تہائی زمین کو سلسلہ عالیہ کی دیگر تبلیغی ضروریات کے لئے ریز رو رکھا گیا ہے۔مسجد کی عمارت ایک وسیع ہال (۳۴×۲۳ فٹ ) ایک برآمدہ (۳۲×۱۳افٹ ) اور مستورات کے لئے دو کمروں پر مشتمل ہے۔جس پر تقریباً ساٹھ ہزار روپیہ خرچ ہوا ہے۔علاوہ ازیں پختہ اور خوبصورت فرش کی لاگت ایک خاتون نے برداشت کی ہے۔بجلی کی وائرنگ وغیرہ ٹیوب لائٹ اور ۱۶ عدد پنکھوں کے اخراجات مقامی جماعت کے تین برادران حقیقی نے ادا کئے ہیں۔لاؤڈ سپیکر ایک سیٹھ صاحب نے عطا فرمایا ہے اور ساری مسجد کے لئے بہت ہی خوبصورت دریاں ایک اور سیٹھ صاحب نے مہیا فرمائی ہیں۔جزاھم اللہ احسن الجزاء۔مسجد کی عمارت کے مشرقی جانب سلسلہ عالیہ کے مبلغ کے قیام اور جماعت کی دیگر ضروریات کے لئے ایک علیحدہ مکان تعمیر کیا گیا ہے جس پر تقریباً اٹھارہ ہزار روپیہ خرچ ہوا ہے۔جس میں سے تقریباً آٹھ ہزار روپیہ صدر انجمن احمد یہ قادیان نے عنایت فرمایا ہے۔اور دس ہزار روپیہ ایک مقامی دوست نے برداشت کیا ہے۔30 برطانیہ کی نواحمدی خاتون علیمہ صاحبہ کی ربوہ آمد محترمہ علیمہ صاحبہ جنہوں نے ۱۹۵۸ء میں احمدیت قبول کی تھی ۳ مارچ ۱۹۶۴ء کی شام زیارت مرکز کے لئے ربوہ تشریف لا ئیں۔آپ محترمہ صدر صاحبہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے ہمراہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ، لجنہ اماءاللہ ربوہ اور ماہنامہ مصباح کے دفاتر، امتہ الحئی لائبریری ،نصرت انڈسٹریل سکول، جامعہ نصرت نیز فضل عمر فاؤنڈیشن بھی گئیں۔انہوں نے یہ تمام ادارہ جات دیکھ کر دلی مسرت کا اظہار کیا۔۶ مارچ صبح کو آپ ربوہ سے قادیان جانے کے لئے لا ہور تشریف لے گئیں۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی تحریر فرمودہ ایک نہایت اہم روایت حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی ایک نہایت اہم روایت الفضل میں شائع ہوئی جس سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خلافت کے متعلق ایک اہم گواہی ملتی ہے۔آپ تحریر فرماتی ہیں:۔احتیاط کا پہلو مد نظر رکھنا سمجھیں یا میری کمزوری بوجہ حالات جانیں۔بہر حال یہ روایت جو میں تحریر کر رہی ہوں کبھی اب آکر ایک آدھ بار کسی عزیز کو سنانے کے علاوہ میری زبان پر نہیں آسکی۔چند