تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 700
تاریخ احمدیت۔جلد 22 700 سال 1964ء زمین کے لئے مختلف علاقوں میں پلاٹ دیکھے گئے اور ایک جگہ بہ اتفاق رائے پسند کی گئی۔شہر کے جنوب مشرقی علاقہ پارک سرکس میں ایک غیر احمدی کی وسیع جائیداد تھی۔جسے وہ پلاٹ بنا کر فروخت کر رہے تھے۔اس میں ایک پلاٹ کا سودا کیا گیا۔اور بیعانہ وغیرہ دے دیا گیا لیکن جب اس نام نہاد مسلمان کو معلوم ہوا کہ اس پلاٹ پر احمد یہ مسجد تعمیر کی جائے گی تو اس نے رجسٹری کر دینے سے انکار کر دیا۔اس کا یہ انکار بیعانہ والے تحریری معاہدہ کے سراسر خلاف تھا اور قانونی طور پر اسے رجسٹری کر دینے پر مجبور کیا جاسکتا تھا مگر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے ایسا کرنا پسند نہ فرمایا۔اور فرمایا کہ مساجد تو امن اور سلامتی کا مقام ہوتی ہیں۔ہم ایسی زمین پر مسجد تعمیر کرنا نہیں چاہتے جس کی ابتداء ہی جھگڑے سے ہو۔اس لئے وہ خرید منسوخ کر دی گئی اور ایسا کرنے کے نتیجہ میں مقامی جماعت کو تقریباً چار ہزار روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔خدا تعالٰی کے بھی کیسے عجیب کام ہیں کہ اس کے فضل سے انہی ایام میں اور اُسی علاقہ میں سابقہ پلاٹ سے بدرجہا بہتر زمین بڑے راستہ پر جماعت کو حاصل ہوگئی۔جسے ۱۹۴۷ء میں صدر انجمن احمد یہ قادیان کے نام پر رجسٹری کرالیا گیا۔الحمد للہ یہ زمین پیمائش میں قریباً ۱۳ کٹھا ایک کنال اور ۱۲ مرلہ) ہے اور تقریباً اسی ہزار روپیہ میں خریدی گئی ہے۔یہ وہ زمانہ تھا جب سارے ملک میں انقلاب بر پا تھا۔اور جس کے نتیجہ میں صوبہ بنگال کی تقسیم عمل میں آگئی اور اکثر احباب کلکتہ سے منتقل ہو گئے۔اس لئے اس زمین پر مسجد کی تعمیر کا معاملہ التواء میں پڑ گیا۔اور تقریبا بارہ برس کوئی کارروائی نہ کی جاسکی۔۶۱ - ۱۹۶۰ء میں الحاج منشی شمس الدین صاحب کی امارت کے عہد میں کلکتہ کارپوریشن میں مسجد کے لئے نقشہ داخل کر کے عمارت کی منظوری حاصل کی گئی۔مقامی احباب نے تعمیر کے اخراجات کے لئے شرح صدر سے سرمایہ فراہم کیا۔۱۹۶۲ ء کے ستمبر میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے فرزند ارجمند صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب سلمہ اللہ قادیان سے بمع جناب ناظر صاحب بیت المال یہاں تشریف لے آئے اور ۶ استمبر ۱۹۶۲ء کو مقامی احباب کے اجتماع میں دعاؤں کے ساتھ مسجد کا سنگِ بنیا درکھا۔اور چند بکرے صدقہ کئے گئے۔الحمد للہ۔بعد ازاں جناب مولوی بشیر احمد صاحب فاضل امیر جماعت کلکته کی نگرانی میں عمارت کا کام شروع ہوا۔اور یہ نہایت ہی خوبصورت عمارت فروری ۱۹۶۴ء کے پہلے ہفتہ میں پایہ تکمیل کو پہنچی اور ۴ فروری کو جمعتہ الوداع کے مبارک دن میں مولوی صاحب موصوف نے اس کا افتتاح کیا۔فالحمد لله رب العلمین