تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 682 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 682

تاریخ احمدیت۔جلد 22 682 سال 1964ء جکڑ بندوں کو تو ڑ کر سلسلہ کے کام کو مقدم ٹھہراتے اور پابندی سے مشوروں میں شامل ہوتے۔(ه) ضلع سیالکوٹ کے نائب امیر تھے جماعت کے فدائی، طبیعت میں سوز و گداز اور دردمند دل۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی وفات پر مرحوم کوزارزار بے اختیار روتے خاکسار نے دیکھا۔( د ) ۱۹۱۹ء کی بات ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے خاکسار ( شیخ محمد احمد مظہر۔ناقل ) کو فرمایا کہ آئندہ زمانہ میں جماعت کو وکلاء کی بڑی ضرورت پیش آئے گی۔بعد کے واقعات نے حضور کی اس فراست اور پیش بینی کی تصدیق کی۔اور جماعت کے بہت سے وکلاء کو اللہ تعالیٰ نے خدمت سلسلہ کی توفیق عطا فرمائی۔اور ہر خدمت کرنے والا اپنے اپنے مقام پر پھولا پھلا اور کامیاب ہوا۔نذیر احمد صاحب مرحوم بھی ایسے ہی خادمان سلسلہ میں سے تھے اور یہ امر کہ آپ فن وکالت میں ممتاز اور ماہر تھے اور نیز یہ امر کہ اپنی قابلیت کو سلسلہ کی خدمت میں لگائے رکھتے تھے اور ہر مصروفیت کو چھوڑ کر خدمت کے لئے حاضر موجود ہوتے تھے۔ہمارے نوجوان وکلاء کے لئے ایک نمونہ ہے تا کہ وہ خدمت سلسلہ کو ہر چیز پر مقدم رکھیں“۔116-