تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 681 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 681

تاریخ احمدیت۔جلد 22 681 سال 1964ء احمدیہ علی پورگھلوان نے میاں شیر محمد صاحب کی بیٹی کے لئے حضور سے درخواست دعا کی اور میاں شیر محمد صاحب کا تعارف بھی کرایا۔حضور از راہ شفقت میاں شیر محمد صاحب کے گھر تشریف لے گئے اور بچی کو جو ٹائیفائیڈ سے بیمار تھی دیکھا اور دعا بھی کی اور فرمایا ” گھبراؤ نہیں۔اللہ تعالیٰ جلد از جلد شفا عطا فرمائے گا۔دیگر تمام ادویات بند کر دو۔ہم خود روزانہ دوا بھیجا کریں گے۔بس وہی دوا دی جائے۔“ اللہ تعالیٰ نے حضور کی دوا اور دعا ہے بچی کو صحت و شفاء عطا فرمائی۔مرحوم میاں شیر محمد صاحب جب بھی قادیان آتے تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے ضرور ملاقات کرتے۔جب ملایا پر جاپانیوں کا قبضہ ہو گیا تو آپ کے بیٹے مبارک احمد صاحب کو حضرت مولانا غلام حسین ایاز اور دیگر احد یوں کی خدمت کا خوب موقع ملا جو جاپانیوں کی قید میں چلے گئے تھے۔چوہدری نذیر احمد صاحب باجوہ ایڈووکیٹ ممبر نگران بورڈ وفات: شب ۲۲/۲۱ دسمبر ۱۹۶۴ء 115۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت چوہدری سردار خان صاحب آف بھا گووال ضلع سیالکوٹ کے فرزند تھے۔قریباً پندرہ سال تک جماعت احمد یہ سیالکوٹ کے نائب امیر رہے۔حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر نے ان کی وفات پر حسب ذیل نوٹ لکھا :۔وو سیالکوٹ کے مردم خیز خطہ میں بڑے بڑے مخلص وفادار اور سلسلہ احمدیہ کے سچے خادم خدا تعالیٰ کے نیک بندے پیدا ہوئے اور اپنے اپنے وقت میں انہوں نے جماعت کی گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔اسی سلسلہ کی ایک کڑی مرحوم چوہدری نذیر احمد باجوہ تھے۔(0) بڑے ذہین وفطین وکیل تھے۔خاکسار نے بعض مشہور جوں کو مرحوم کی قابلیت کا معترف پایا۔قانون کی باریکیوں پر ایک بسیط نظر رکھتے تھے محنت اور کثرت مطالعہ آپ کا خاص امتیاز تھا۔(ب) جماعت کے کاموں میں پیش پیش رہتے تھے۔ہماری جماعت کو بہت سے قانونی مراحل اور مشکلات کا سامنا آئے دن ہوتا رہا ہے اور جماعت کے وکلاء مشورہ کے لئے اکٹھے ہوتے رہے ہیں مرحوم کی شمولیت ان مشوروں میں ضروری سمجھی جاتی تھی۔اور مرحوم ہر مصروفیت کو چھوڑ کر لمبا سفر اختیار کر کے ربوہ یا لاہور پہنچ جایا کرتے تھے اسی طرح نگران بورڈ کے اجلاسوں میں بھی بُعدِ مسافت کے باوجود پابندی سے شامل ہوتے تھے۔صیغہ دیوانی کے نامور اور ممتاز وکیل تھے اور جاننے والے جانتے ہیں کہ اس صیغہ میں کام کرنے والے وکیل کی مصروفیات کس قدر کثیر ہوتی ہیں لیکن مرحوم تمام