تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 677 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 677

تاریخ احمدیت۔جلد 22 677 سال 1964ء دار السلام کے پہلے افریقن میئر منتخب ہوئے اس عہدے پر پہلے صرف یوروپین اور ایشین ہی فائز ہوا کرتے تھے اور افریقنوں کو اس کا اہل ہی نہیں سمجھا جاتا تھا۔مگر مرحوم نے نہایت قابلیت اور ذمہ داری سے اسے نبھا یا حتی کہ دوسرے سال جب میئر کا انتخاب ہوا تو وہ پھر بلا مقابلہ میئر منتخب ہو گئے۔اسی طرح تیسرے سال پھر اس اعزاز کے لئے آپ کو چنا گیا اور آپ ہی کے وقت میں دار السلام کو سٹی کا اعزاز دیا گیا۔۱۹۶۳ء کے شروع میں ہی آپ کو ٹا نگانیکا کے مغربی صوبہ کا ریجنل کمشنر مقرر کر دیا گیا۔جس کی وجہ سے آپ کو میٹر کے عہدہ سے استعفی دینا پڑا۔سیاسی میدان میں آپ نے اپنی خداداد قابلیت کے شاندار جو ہر دکھائے اور ریجنل کمشنر کی حیثیت سے بھی دیانت، امانت اور قابلیت کا قابل تقلید نمونہ چھوڑا۔اس فرض شناسی کی وجہ سے جلد ہی ٹانگانیکا کے صدر نے انہیں اپنی کیبنٹ میں لے لیا۔اگر چہ وہ اس سے پہلے بھی ٹانگانیکا کی پارلیمنٹ کے ممبر تھے مگر اب وزارت انصاف کا قلمدان بھی ان کے سپرد کر دیا گیا۔اس عہدہ جلیلہ پر فائز ہوتے ہی انہوں نے ملکی قانون کا سواحیلی زبان میں ترجمہ شروع کر وا دیا۔اور بعض بنیادی اصلاحات جاری کیں۔۱۹۶۴ء کے شروع میں جب زنجبار کا علاقہ ٹانگانیکا سے ملا دیا گیا تو انہیں تعمیر قومی و ثقافت ملیہ کی وزارت سونپی گئی۔اس عہدہ پر فائز ہونے کے بعد آپ کی صحت خراب رہنے لگی۔اور قریباً دو ماہ مغربی جرمنی کے شہربان میں زیر علاج رہنے کے بعد دو ہیں انتقال فرما گئے۔مرحوم اعلی ملکی طبقہ میں بڑے احترام سے دیکھے جاتے تھے۔خود صدر مملکت ٹانگانیکا کے آپ دست راست اور قابل اعتما در فیق کار تھے۔آپ کی نیکی اور خدا ترسی کے سب عوام و خواص معترف تھے۔مجلس وزراء اور پارلیمنٹ میں آپ کی تقاریر بعض دفعہ سب کے سب اراکین اور حاضرین کو اپنی رائے بدلنے پر مجبور کر دیتی تھیں۔ایک دفعہ جبکہ ملکی اور غیر ملکی باشندگان کے حقوق کا سوال پارلیمنٹ میں زیر بحث تھا۔ممبران کی اکثریت غیر ملکیوں کو ملکی لوگوں کے برابر حقوق دینے کی مخالف تھی۔صدر ٹا نگانیکا اس صورتحال سے بہت پریشان تھے۔انہوں نے پوری کوشش کی کہ ممبران کو معقولیت سے سمجھا کر انہیں اپنا ہم خیال بنا لیں۔لیکن کامیابی نہ ہوئی۔حتی کہ صدر نے مستعفی ہونے کی دھمکی بھی دی مگر بے سود۔اس اختلاف رائے کی حالت میں مجلس ملتوی ہوگئی۔پچھلے پہر جب دوبارہ اس مسئلہ کے بارہ میں اظہار خیال کا موقعہ دیا گیا۔تو شیخ عمری عبیدی صاحب نے ایک گھنٹہ تک نہایت معقولیت اور جوش سے صدر مملکت کے خیال کی تائید کی۔اور مخالف خیال رکھنے والوں کے تمام دلائل کو تو ڑ کر رکھ دیا۔آخر جب رائے لی گئی