تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 675 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 675

تاریخ احمدیت۔جلد 22 675 سال 1964ء کاموں میں مصروف رہے۔مرحوم صوم وصلوٰۃ کے سخت پابند تھے۔حتی الوسع نماز تہجد میں بھی ناغہ نہ ہونے دیتے تھے۔کثرت سے سچی خوا ہیں انہیں آتی تھیں۔جن سے انہیں روحانی تسکین بھی ہوتی اور اپنے دنیوی کاموں میں بھی راہنمائی حاصل ہوتی۔ہمارے ٹانگانیکا کے افریقن احمدی احباب میں سے وہ اولین موصوں میں سے تھے اور ساری زندگی بڑے تقویٰ اور پارسائی میں گزاری۔اپنا چندہ وصیت پوری با قاعدگی سے ادا کرتے رہے۔اور سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی اجازت سے ٹانگانیکا کے دارالحکومت دار السلام میں احمدیہ قبرستان میں جو قطعہ موصی احباب کے لئے مخصوص کیا گیا ہے اس میں دفن ہونے والے یہ پہلے موصی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائے اور انہیں اپنے خاص فضلوں کا مورد بناتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قرب عطا فرمائے۔اور ان کے اہل وعیال کا متولی و متکفل ہو۔آمین مرحوم کی زندگی کے کئی پہلو ہیں اور سارے ہی ایسے رنگ میں ایک نمایاں خصوصیت کے حامل ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلند ذہنی اور دماغی قابلیتیں بخشی تھیں۔اور ان تمام صلاحیتوں کو انہوں نے مقدور بھر دینِ اسلام کی ترقی اور غلبہ کے لئے استعمال کیا۔مرحوم سواحیلی اور انگریزی میں پُر جوش اور مؤثر تقاریر کر سکتے تھے۔اور اپنے مافی الضمیر کو بڑے عمدہ اور مدلل پیرا یہ میں پیش کر سکتے تھے یہاں تک کہ ان سے زیادہ علم اور پوزیشن کا آدمی بھی ان کی گفتگو سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا تھا۔سواحیلی زبان کے بلند پایہ شاعر تھے۔اور اس فن کے اصول وقواعد کے بارہ میں انہوں نے ایک ایسی کتاب لکھی جو ماہرین فن سے بھی خراج تحسین حاصل کر چکی ہے۔ان کے سواحیلی اشعار کا مجموعہ بھی چھپ چکا ہے۔جواد بی لطافتوں کے ساتھ ساتھ دینی چاشنی بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔ہمارے مشرقی افریقہ کے مشن نے بہت سالٹر پچر سواحیلی زبان میں تیار کیا ہے۔ان تمام تراجم اور تالیفات میں ان کا نمایاں حصہ ہے بالخصوص سواحیلی ترجمۃ القرآن کی تیاری میں انہوں نے بڑی عرق ریزی سے کام کیا۔اور دوسرے مبلغین کے دوش بدوش اس تر جمہ کی تصحیح اور نظر ثانی میں قابل قدر خدمات انجام دیں۔یہ ترجمہ ۱۹۵۳ء میں دس ہزار کی تعداد میں شائع ہو کر افریقہ کے وسیع حصہ میں مقبول ہو چکا ہے۔اس ترجمہ کی طباعت کے جلد بعد محترم شیخ عمری عبیدی صاحب ربوہ تشریف لائے اور تقریباًدو