تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 674 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 674

تاریخ احمدیت۔جلد 22 674 سال 1964ء باوجود اس کے کہ دنیا میں وہ ایک معزز عہدے پر فائز ہو چکے تھے۔ان کی طبیعت میں وہی پہلی سی سادگی اور انکساری موجود تھی ہر ایک سے بڑی محبت سے ملتے۔دار السلام سے اپنے سرکاری فرائض پر ممالک غیر کی طرف جاتے ہوئے نیروبی سے گذرتے اور چند گھنٹے کا قیام بھی ہوتا تب بھی ضرور ہی مسجد اور مشن ہاؤس میں تشریف لاتے اور آتے ہی پہلے مسجد میں نوافل ادا کرتے ، دوستوں سے ملتے اور بڑے خوش ہوتے۔نماز پابندی وقت سے ادا کرتے نمازوں میں رونا ان کا شیوہ تھا۔دعا ان کی غذا تھی۔اللہ تعالیٰ کے مقرب تھے۔سچی خوا میں ان کو آتی تھیں۔دراصل وہ ایک ولی اللہ تھے جو افسوس کہ چھوٹی عمر میں ہی اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔۴۔چوہدری افتخار احمد صاحب ایاز انسپکٹرسکولز ٹا نگانیکا:- پریس رپورٹ میں آپ کے فوت ہونے کی وجہ "Suspected Food Poisoning" بتائی گئی ہے یعنی کھانے میں زہر دے دیا گیا۔اس وجہ سے ان کی وفات کا خاص دکھ ہے ان کی نیکی، دیانت اور وفا شعاری کی وجہ سے نیز ان کے احمدی مبلغ ہونے کی وجہ سے ان کے کئی دشمن بھی تھے خاص طور پر کیتھولک عیسائی۔بہر حال انہوں نے اپنی زندگی اپنے دین اور اپنے ملک کی خدمت میں قربان کر دی اور اللہ تعالیٰ ان کو اس قربانی کا ضرور اجر عطا فرمائے گا۔انشاء اللہ۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر کی نظر میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ:۔احباب اخبار میں یہ افسوسناک خبر ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ ہمارے نہایت مخلص افریقن بھائی محترم شیخ عمری عبیدی صاحب ۹ اکتوبر کو جرمنی میں وفات پاگئے ہیں۔مرحوم ابھی ٹورا سکول میں طالب علم ہی تھے کہ ان کی واقفیت ہمارے مبلغ شیخ مبارک احمد صاحب سے ہوئی جو حسب معمول دینیات پڑھانے کے لئے اس سکول میں جایا کرتے تھے۔چونکہ طبیعت میں سعادت تھی اس لئے جلد ہی انہیں جماعت احمدیہ سے لگاؤ پیدا ہو گیا۔اور اس کے بعد سے اس تعلق میں ہمیشہ اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔یہاں تک کہ مرحوم مولائے حقیقی سے جاملے۔محترم شیخ عمری عبیدی صاحب نے تعلیم سے فراغت کے بعد کچھ عرصہ تک ڈاکخانہ میں ملازمت کی مگر سلسلہ کی ضروریات اور اپنے طبعی جوش کے مدنظر اس ملازمت سے مستعفی ہو کر دینی خدمات کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی۔اور نہایت تنگی کے ایام میں بھی بڑی خندہ پیشانی اور مستعدی سے جماعتی