تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 673 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 673

تاریخ احمدیت۔جلد 22 673 سال 1964ء اخلاص کے ساتھ جو گہراتعلق وفاداری کے ساتھ قائم رکھا اس کے باعث خاکسار کو اپنے اس عزیز کی جدائی کا طبعی غم ہے۔در حقیقت اس جوانی کے عالم میں ان کی پر ہیز گاری، دینداری، نیکی ،قوم و ملک کے ساتھ اخلاص و فدائیت اور بے لوث خدمت کا جذبہ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیروی و متابعت اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے ساتھ وابستگی کا شاندار ثمرہ ہے اور احمدیت سے تعلق کی برکت کا زندہ اور جاودانی ثبوت ہے“۔107 108- ۲۔مولوی محمد منور صاحب سابق انچارج مبلغ ٹا نگانیکا:۔(0) ”میں نے سولہ سال کا عرصہ مشرقی افریقہ میں گزارا ہے اور میں اس امر کا عینی شاہد ہوں کہ ہمارے اس عزیز بھائی کو احمدیت سے بے حد شغف تھا اس کی سر بلندی کے لئے وہ مقدور بھر سعی کرتے تھے اور اسی حقیقی اسلام کو وہ ملک وقوم اور اقارب و اولاد میں قائم کرنا اپنا فرض اولین سمجھتے تھے۔ہندوستانی اور پاکستانی احمدیوں کو وہ اتنا ہی عزیز سمجھتے جتنا افریقن احمدیوں کو۔(ب) " شروع سے لے کر آخر تک ایک جانباز مجاہد اور بے لوث مبلغ تھے میں نے انہیں بہت قریب سے دیکھا اور میرا تاثر یہ ہے کہ ان کا ایمان زر خالص کی طرح کندن تھا اور ایک کامیاب مبلغ کے لئے جتنی صفات کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب کی سب ان میں اعلیٰ درجہ تک پہنچی ہوئی تھیں“۔اس کے بعد جناب مولوی محمد منور صاحب نے مندرجہ ذیل دس صفات کا بالترتیب تذکرہ فرمایا جو شیخ عمری عبیدی صاحب میں نمایاں طور پر موجود تھیں۔غیرت، علم دوستی ، محنت، عبادت، قربانی، حب الوطنی، مہمان نوازی، جذ به محبت و اصلاح، مبلغین کا ادب، مرکز کا ادب۔109 ۳۔قاضی عبد السلام صاحب بھٹی ایڈیٹر ایسٹ افریقن ٹائمنر (نیروبی):۔غالبا ۱۹۴۴ء کی بات ہے میرے ہاں کسومو ( کینیا ) کے شہر میں کچھ عرصہ کے لئے قیام پذیر ہوئے وہاں ایک عرب قصاب بڑا امیر کبیر تاجر ہوا کرتا تھا۔مخالفت کے جوش میں ایک دن اس نے ہمارے محترم عمری صاحب مرحوم و مغفور کو سر بازار تھپڑ مار دیا کہ تم وہ شخص ہو جو فلاں جگہ تبلیغ کرتے پھرتے تھے۔خدا کی شان ہے یہ بیچارہ عرب پہلے بینائی سے محروم ہو گیا اور کاروبار تباہ ہوا اور اب اس کا کوئی نام بھی لینے والا نہیں۔اس کے مقابلہ میں عمری صاحب کو اللہ تعالی نے ٹانگانیکا حکومت کے وزارت کے عہدے تک پہنچایا اور خدمات دین اور اعلیٰ درجہ کی نیکیوں کی توفیق عطا کر کے زندہ جاوید بنا دیا ہے انہوں نے اپنی ساری عمر ہی دین کی خاطر لگا دی اور اس لحاظ سے گو یا شہادت کا درجہ پایا ہے۔